ایّام الصّلح — Page 299
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۹ تیام اصلح بقیه حاشیه بادشاہ ہو گئے کیونکہ یہ قوم افغان جن کی اب تک افغانستان میں بادشاہت پائی جاتی ہے۔ (۲۵) معلوم ہوتا ہے ۔ پس بقول شخصے کہ ہر چہ بر خود نہ پسندی بر دیگرے نہ پسند یہ بھی نا مناسب ہے کہ دوسروں کی قسم قومیت پر جو ایک بڑی قومی اتفاق سے مانی گئی ہے ناحق کا جرح کیا جائے ۔ ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اور ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ہم ایک قوم کے مسلمات اور متفق علیہ امر کو یوں ہی زبان سے رڈ کر دیں۔ جب ایک امر منقولی اتفاق سے صحیح قرار دیا گیا ہے تو اس کے بعد قیاس کی گنجائش نہیں ۔ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ بہت سی باتیں فضولی اور شیخی کے طور پر بعض قوموں کے لوگ اپنی قومیت کی نسبت بیان کیا کرتے ہیں ۔ لیکن محقق لوگ فضول باتوں کی وجہ سے اصل واقعات کو ہرگز نہیں چھوڑتے بلکہ خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَ زیر عمل کر لیتے ہیں مثلا گو تم ۶۵ بدھ کے سوانح میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ منہ کی راہ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن جب ہم گوتم کے سوانح لکھنا چاہیں تو ہمیں نہیں چاہیے کہ منہ کی راہ کی پیدائش پر نظر ڈال کر بدھ کے اصل وجود سے ہی انکار کر دیں۔ تاریخ نویسی کا امر بڑا نازک امر ہے ۔ اس میں وہ شخص جادہ استقامت پر رہتا ہے کہ جو افراط اور تفریط دونوں سے پر ہیز کرے۔ یہ اعتراض بھی ٹھیک نہیں کہ اگر افغان لوگ عبرانی الاصل تھے تو ان کے ناموں میں کیوں عبرانی الفاظ نہیں اور ان کا شجرہ پیش کردہ توریت کے بعض مقامات سے کیوں اختلاف رکھتا ہے۔“ یہ سب قیاسی باتیں ہیں جو قومی تاریخ اور تواتر کو مٹانہیں سکتیں ۔ دیکھو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے اس شجرہ کو صحیح نہیں قرار دیا جو وہ لوگ حضرت اسمعیل تک پہنچایا کرتے تھے اور بجز چند پشت کے باقی کذب کا ذبین قرار دیا ہے ۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ قریش بنی اسمعیل نہیں ہیں۔ پھر جب کہ قریش جو علم انساب میں بڑے حریص تھے تفصیل وار سلسلہ یا د نہ رکھ سکے تو یہ قوم افغان جن میں اکثر غفلت میں زندگی بسر کرنے والے گذرے ہیں اگر انہوں نے اپنے سلسلہ کی تفاصیل بیان کرنے میں غلطی کی یا کچھ جھوٹ ملایا تو اصل مقصود میں کیا فرق آ سکتا ہے۔ اور اب تو ریت بھی کونسی ایسی محفوظ ہے جونص قطعی کا حکم رکھتی ہو۔ ابھی ہم نے معلوم کیا ہے کہ یہود کے نسخوں اور عیسائیوں کے نسخوں میں بہت فرق ہے۔ غرض یہ نکتہ چینی خوب نہیں ہے اور یہ بات بھی صحیح نہیں کہ افغانوں کے نام عبرانی طرز پر نہیں ۔ بھلا بتاؤ کہ یوسف زئی ، داؤد زئی اور سلیمان زئی یہ عبرانیوں کے نام ہیں یا کچھ اور ہے۔ ہاں جب یہ لوگ دوسرے ملکوں میں آئے تو ان ملکوں کا رنگ بھی ان کی بول چال میں آ گیا۔ دیکھو سادات کے نام بھی ہمارے ملک میں چن شاہ اور مگھن شاہ اور نتھو شاہ اور متو شاہ وغیرہ پائے جاتے ہیں تو اب کیا اُن کو سید نہیں کہو گے؟ کیا یہ عربی نام ہیں؟ غرض یہ بیہودہ نکتہ چینیاں اور نہایت قابل شرم خیالات ہیں۔ ہم قوم کی متواترات سے کیوں انکار کریں۔ اس سے عمدہ تر اور صاف تر ذریعہ حقیقت شناسی کا ہمارے ہاتھ میں کون سا ہے؟ کہ خود قوم جس کی اصلیت ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں ایک امر پر اتفاق رکھتی ہے۔ ماسوا اس کے دوسرے قرائن بھی صاف بتلا رہے ہیں کہ حقیقت میں یہ لوگ اسرائیلی ہیں۔ مثلاً کوہ سلیمان جو اول افغانوں کا مسکن تھا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس پہاڑ کا یہ نام اسرائیلی یادگار کے لحاظ سے رکھا گیا ہے۔ دوسرے ایک بڑا قرینہ یہ ہے کہ قلعہ خیبر جو افغانوں نے بنایا کچھ شک نہیں کہ یہ خیبر کا نام بھی محض اسرائیلی