ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 550

ایّام الصّلح — Page 294

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۴ اتمام الصلح اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل مسیح اس صدیق کو کہتے ہیں جس کے مسح یعنی چھونے میں خدا نے برکت رکھی ہو اور اُس کے انفاس اور وعظ اور کلام زندگی بخش ہوں۔ اور پھر یہ لفظ خصوصیت کے ساتھ اس نبی پر اطلاق پا گیا جس نے جنگ نہ کیا اور محض رُوحانی برکت سے اصلاح خلائق کی۔ اور اس کے مقابل پر مسیح اس معبود و قبال کو بھی کہتے ہیں جس کی خبیث طاقت اور تاثیر سے آفات اور دہریت اور بے ایمانی پیدا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ سچائی کے نابود کرنے کے لئے کوئی اور جابرانہ وسائل استعمال کرے صرف اس کی توجہ باطنی یا تقریر یا تحریر یا مخالطت سے محض شیطانی روح کی تاثیر سے نیکی اور محبت الہی ٹھنڈی ہوتی چلی جائے۔ اور بدکاری، شراب خوری۔ دروغگوئی ۔ اباحت ۔ دُنیا پرستی۔ مگر ظلم ۔ تعدی۔ قحط اور وبا پھیلے۔ یہی معنے ہیں جو لسان العرب وغیرہ اعلیٰ درجہ کی لغت کی کتابوں سے اُن کے بیان کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہی معنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں القا کئے ہیں اور اگر چہ دوسرے انبیاء بھی مسیحیت کی صفت اپنے اندر رکھتے ہیں مگر جس نبی نے ایسا زمانہ پایا اور جہاد وغیرہ وسائل کو اُس نے استعمال نہ کیا اور صرف دعا اور روحانی طاقت سے کام لیا اس کا بالخصوصیت یہ نام ہے۔سوالیسا مسیح اعلی درجہ کا بنی اسرائیل میں صرف ایک ہی گذرا ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد تشریف لائے۔ اور سلسلہ خلافت موسویہ کے آخری خلیفہ ٹھہرے اور بموجب توریت کی پیشگوئی اور قرآن شریف کی پیشگوئی کے خدا تعالیٰ کو منظور ہوا جو اُسی کی مانند سلسلہ خلافت محمدیہ کے اخیر پر ایک مسیح پیدا کرے سواس نے اسی مدت کی مانند اس مسیح کو بھی چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا۔ اور پہلے مسیح کی طرح دوسرے مسیح کی نسبت بھی احادیث صحیحہ میں حضرت سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی گئی کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قرآن آسمان پر اُٹھ جائے گا یعنی لوگ طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں مبتلا ہوں گے اور اکثر روز جزاء کی نسبت نہایت ضعیف الاعتقاد اور دہریہ کی طرح ہو جائیں گے اور وہ اپنی کلام اور معجزات اور نشانوں اور روحانی طاقت سے دوبارہ ان میں ایمان قائم کرے گا اور شبہات سے نجات دے گا۔ اور اپنے آسمانی حربہ سے بغیر کسی ظاہری جہاد کے