ایّام الصّلح — Page 289
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۹ اتمام الصلح کہ جب سے قرآن شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطر ناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے بد بخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیر میں شائع کیں۔ بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور تر جموں کے بہانہ سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا ہے اور بہتوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اکثر جگہ میں (۵۲) علوم عقلیہ اور مسائل مسلّمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے برعکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور نا انصافی کے طریقوں کو سکھاتی ہے۔ اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفات الہیہ کے مخالف اور قانون قدرت اور صحیفہ فطرت کے منافی ہیں۔ اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیشگوئیوں سے نہایت درجہ کے اصرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی صورت کھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افترا سے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔ لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعا چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اُٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو۔ اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔ اس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجد د بھیجا۔ مگر چونکہ ہر ایک مجد د کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مسجد د کا نام خدمات مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا ۔ کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخرالزمان کے نوٹ : بہتوں نے اپنی تفسیروں میں اسرائیلی بے اصل روایتیں لکھ کر ایک دنیا کو دھوکا دیا ہے۔ منہ الحجر: ١٠