ایّام الصّلح — Page 285
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۵ امام الصلح پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک سیلا نہ آوے یعنی عیسی علیہ السلام ۔ اور قو میں اُس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔ اس آیت کا یہی مطلب تھا کہ یہودیوں کی سلطنت جو خدا تعالیٰ کی بہت نافرمانی کریں گے مسیح موعود تک بہر حال قائم رہے گی اور اُن کا عصائے حکومت نہیں ٹوٹے گا جب موعود وہ تک ان کا مسیح موعود یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نہ آوے اور جب وہ آ جائے گا تو وہ عصا ٹوٹے گا اور دنیا میں ان کی سلطنت باقی نہیں رہے گی۔ اسی طرح سلسلہ خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو صحیح بخاری میں عیسائی مذہب کی انتہا اور شروع انحطاط کا نشان قرار دیا ہے۔ چنانچہ بخاری کے لفظ يَكْسِرُ الصَّلیب کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی مذہب کی ترقی کم نہ ہوگی ہیں اور نہ اس کا قدم آگے بڑھنے سے ضعیف ہوگا اور نہ وہ گھٹے گا جب تک خلافت محمدیہ کا مسیح موعود نہ آوے۔ اور وہی ہے جو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو ہلاک کرے گا۔ جب وہ آئے گا تو وہی زمانہ صلیبی مذہب (۵۳) کے تنزل کا ہوگا اور وہ اگر چہ اس دجال کو یعنی دجالی خیالات کو اپنے حربہ براہین سے معدوم بھی نہ کرے۔ تب بھی وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ خود بخود وہ خیالات دُور ہوتے چلے جائیں گے۔اور اُس کے ظہور کے وقت تشکیعی مذہب کے زوال کا وقت پہنچ جائے گا اوراس کا آن اس مذہب کے کم ہونے کا نشان ہوگا۔ یعنی اس کے ظہور کے ساتھ وہ ہوا چلے گی جو دوں اور دماغوں کو تلی مذہب کے مخالف کھینچے گی اور ہزاروں دلائل اس مذہب کے بطلان کے لئے پیدا ہو جائیں گے اور بجز عقلی اور آسمانی نوٹ: دونوں پیشگوئیوں میں صرف فرق یہ ہے کہ پہلی پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان یہودیوں کا زوال سلطنت تھا اور دوسری پیشگوئی میں مسیح موعود کے ظہور کا نشان تشکیعی مذہب کے انحطاط کے آثار ہیں۔ غرض دوسری پیشگوئی کو سلطنت سے کچھ تعلق نہیں جیسا کہ پہلی پیشگوئی کو مذہب سے کچھ تعلق نہ تھا۔ منہ نوٹ: یہ ہوا اب ہمارے زمانہ میں کئی پہلو سے چل رہی ہے۔ یورپ میں لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ صرف نام کے عیسائی اور دراصل منکر تثلیث ہیں۔ پہلے زمانوں میں طبائع کا بیا انقلاب کہاں تھا ۔ منہ