ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 550

ایّام الصّلح — Page 282

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۲ امام الصلح لیکن ایسے منکر اُسی وقت تک معذور تھے جب تک کہ صحیح معنے جو سراسر سنت اللہ میں داخل ہیں اُن پر ظاہر نہیں کئے گئے تھے۔ اور اب تو یہ بہت شرمناک اور نا انصافی کا طریق ہے کہ با وجود معقول اور قریب قیاس معنوں کے اور باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر احادیث اور باوجود اتفاق اسلام اور نصرانیت کے ان حدیثوں کو رڈ کیا جائے ۔ جو لوگ ان حدیثوں سے جو مسیح موعود کے ظہور کی خبر دے رہی ہیں انکار کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ پہلے وہ اُس تو اتر اور ہر ایک پہلو کے ثبوت سے واقفیت حاصل کریں جو ان حدیثوں کو حاصل ہے اور اس بات کو سوچیں کہ یہ خبر صرف حدیث کی کتابوں میں نہیں بلکہ اول یہودیوں کی کتب مقدسہ میں پھر انجیل میں پھر قرآن میں اس کی خبر دی گئی ہے اور پھر سب کے بعد حدیثوں میں اس کی تفصیل آئی ہے اور تین قو میں اس خبر کو قطعی اور یقینی مانتی آئی ہیں۔ اور خدا کا قانون قدرت جس کا منشاء یہ ہے کہ ہر ایک فساد کے وقت اس فساد کے مناسب حال کوئی مصلح آنا چاہئیے اس خبر کی تصدیق کرتا ہے۔ اور وہ دین کی رہزن بلائیں اور آفتیں جو قدم قدم پر پیش آ رہی ہیں جن کے مقابلہ میں تیرہ سو برس کی تمام بدعات اور آفات اور فتن کا مجموعہ پیچی محض ہے۔ وہ بھی اس بات کو چاہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانی اسباب سے حمایت دین کرے۔ پھر بجز تعصب اور ناحق کی نفسانیت کے کونسی مشکلات ہیں جو اس پیشگوئی کے قبول کرنے سے روکتی ہیں؟ کیا اس بات کا باور کرنا مشکل ہے کہ اگر خدا بر حق ہے اور دین کچھ چیز ہے تو ان دنوں میں غیرت الہی ضرور اس بات کے لئے جوش زن ہونی چاہئیے کہ جس قدر کفر اور شرک کے پھیلانے اور توحید کے ذلیل کرنے کے لئے زور لگایا گیا ہے اُسی قدریا اس سے بڑھ کر اُس زندہ خدا کی طرف سے بھی زور آور حملے ہوں؟ تا لوگ یقین کریں کہ وہ موجود ہے اور اُس کا دین سچا ہے۔ کیا اب تک اس بات کے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا کہ در حقیقت دین اسلام نہایت غربت کی حالت میں ہے؟ اندرونی طور پر عملی حالت کی یہ صورت ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھ گیا ہے اور بیرونی طور پر مخالفوں نے غلط فہمیوں سے ہزار ہا اعتراض اسلام پر کئے ہیں اور لاکھوں دلوں کو سیاہ کر دیا ہے۔ پس اب اس بات سے کس طرح انکار ہوسکتا ہے