ایّام الصّلح — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۴ کے فاصلہ پر ہے۔ ۲۷۷ ایام الصلح اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصوص صریحہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہو چکی ہے اور حق کھل گیا ہے اور اس کے مقابل پر یہ دوسرا حصہ احادیث کا جس میں نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے یہ سب استعارات لطیفہ ہیں جو از قبیل وحی وراء الحجاب ہیں جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور وحی وراء الحجاب کی خدا تعالی کی کلام میں ہزاروں مثالیں ہیں اس سے انکار کرنا منصف کا کام نہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دو جھوٹے نبیوں کو دوکڑوں کی شکل میں دیکھنا اسی قسم کی وحی تھی ۔ گائیں ذبح ہوتے دیکھنا بھی اسی قسم کی وہی تھی لمبے ہاتھوں والی بیوی کا سب بیویوں سے پہلے فوت ہونا دیکھنا بھی اسی قسم کی وحی تھی اور ملا کی نبی کی وحی میں یہ ظاہر کیا جانا کہ ایلیا نبی دوبارہ آئے گا اور یہود کی بستیوں میں سے فلاں مقام میں نازل ہوگا یہ بھی اسی قسم کی وحی تھی اور مدینہ کی وہا کا عورت پراگندہ شکل کے طور پر نظر آنا یہ بھی اسی قسم کی وہی تھی ۔ اسی طرح دنبال بھی جو ایک دجل کرنے والا گروہ ہے ایک شخص مقرر کی طرح نظر آیا۔ یہ بھی اسی قسم کی وحی ہے۔ نبیوں کی وحیوں میں ہزاروں ایسے نمونے ہیں جن میں روحانی امور جسمانی رنگ میں نظر آئے یا (۴۲) ایک جماعت ایک شخص کی صورت میں نظر آئی ۔ تمام نوع انسان کے لئے جس میں انبیاء علیہم السلام بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ الہام اور وحی اور ر دیا اور کشف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں۔ مثلاً دو چار سو آدمی جمع کر کے اُن کی خوا ہیں سنو تو اکثر اُن میں استعارات ہوں گے ۔ کسی نے سانپ دیکھا ہوگا اور کسی نے بھیڑیا اور کسی نے سیلاب اور کسی نے باغ اور کسی نے پھل اور کسی نے آگ اور تمام یہ امور قابل تاویل ہوں گے ۔ حدیثوں میں ہے کہ قبر میں عمل صالح اور غیر صالح انسان کی صورت پر دکھائی دیتے ہیں۔ سو یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے تمام تناقض دور ہوتے ہیں اور حقیقت کھلتی ہے۔ مبارک وہ جو اس میں غور کریں۔ اور جبکہ کامل تحقیقات سے یہ فیصلہ ہو چکا کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور ہر ایک پہلو سے اُن کی وفات بپایہ ثبوت پہنچ گئی بلکہ حدیث صحیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ۸۷ انہوں نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور واقعہ صلیب کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے تو