ایّام الصّلح — Page 275
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۵ اتمام اصلح دنبال کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور وہ طواف چوروں کی طرح اس نیت سے تھا کہ تا موقعہ پا کر خانہ کعبہ کو منہدم کرے ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف میں مسیح موعود کو دمشق کے منارہ مشرقی پر نازل ہوتے دیکھا سو یہ ایسا ہی ایک کشفی امر تھا جیسا کہ ۴۴) دجال کا طواف کرنا ایک کشفی امر تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دقبال فی الحقیقت مسلمان ہو جائے گا اور خانہ کعبہ کا طواف کرے گا بلکہ ہر ایک دانا اس وحی کے یہی معنے لے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عالم کشف میں دجال کی روحانیت منکشف ہوئی اور یہ تمثیل کشفی نظر میں آنکھوں کے سامنے آئی کہ گویا قبال ایک شخص کی صورت میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے اور اس کی تاویل یہ تھی کہ دجال دین اسلام کا سخت دشمن ہوگا اور اُس کی نظر بد نیتی سے خانہ کعبہ کے گرد پھرتی رہے گی جیسا کہ کوئی اس کا طواف کرتا ہے ظاہر ہے کہ جیسا کہ رات کے وقت چوکیدار گھروں کا طواف کرتا ہے ویسا ہی چور بھی کرتا ہے لیکن چوکیدار کی نیت گھر کی حفاظت اور چوروں کا گرفتار کرنا ہوتا ہے ایسا ہی چور کی نیت نقب زنی اور نقصان رسانی ہوتی ہے۔ سو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کشف میں دجال کی روحانیت جو طواف کعبہ میں پائی گئی اس سے یہی مطلب تھا کہ دجال اس فکر میں لگا رہے گا کہ خانہ کعبہ کی عزت کو دُور کرے۔ اور مسیح موعود جو خانہ کعبہ کا طواف کرتا دیکھا گیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح موعود کی روحانیت بیت اللہ کی حفاظت اور دجال کی گرفتاری میں مصروف پائی گئی۔ یہی تشریح اس مقام کی ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو دمشق کے منارہ شرقی میں نازل ہوتے دیکھا۔ چونکہ مبدء تثلیث اور مخلوق پرستی اور صلیبی نجات کا دمشق ہی ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی مبارک میں یہ ظاہر کیا گیا کہ مسیح موعود منارہ شرقی دمشق کے پاس نازل ہوا۔ اور نیز جبکہ مسیح موعود کی رُوحانیت اس طرف متوجہ تھی کہ تثلیث کی بنیاد کو اسی وجہ سے دوسری حدیث میں جو ابن عساکر میں ہے رئیت کا لفظ ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ مسیح ابن مریم مناره شرقی دمشق کے قریب نازل ہوا ہے ۔ منہ