ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 550

ایّام الصّلح — Page 274

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۴ امام الصلح اس کے اور کوئی معنے نہ ہوئے کہ جناب موصوف کی خواور طبیعت پر کوئی اور شخص اس امت میں سے پیدا ہو۔ جیسا کہ حضرت ایلیا کے نام پر حضرت یحییٰ علیہ السلام آگئے ۔ اس بات کے ماننے سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں کچھ بھی وقتیں اور مشکلات پیدا نہیں ہو ئیں بلکہ ایک ذخیرہ غیر معقول باتوں کا معقولی رنگ میں آ گیا۔ اب کچھ ضرورت نہ رہی کہ نزول کے لفظ سے یہ سمجھا جائے کہ آسمان سے کوئی نازل ہوگا بلکہ لفظ نزول اپنے عام معنوں میں رہا کہ مسافروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہر ایک آنے والا عظمت کی نگاہ سے نازل سمجھا جاتا ہے اور نزیل جو مسافر کو کہتے ہیں۔اور اگر فرض کے طور پر حدیث میں آسمان کا لفظ بھی ہو تب بھی حرج نہیں کیونکہ تمام مامور من اللہ آسمانی کہلاتے ہیں اور آسمانی نور ساتھ لاتے ہیں اور جھوٹے آدمی زمینی کہلاتے ہیں۔ یہ عام محاورہ خدا تعالی کی کتابوں کا ہے لیکن اس جگہ یہ ضروری بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ یہ قصہ نزول مسیح جو مسلم میں ایک لمبی حدیث میں جو نواس بن سمعان سے ہے لکھا ہے جس کے معنے ہمارے مخالف یہ کرتے ہیں کہ گویا آسمان سے کوئی نازل ہوگا یہ معنے ثبوت مذکورہ بالا سے جو ہم نے قرآن اور حدیث اور دیگر شواہد سے دیا ہے بالکل کالعدم ہو کر ان کا بطلان ظاہر ہو گیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو ان معنوں اور بیان قرآن شریف اور دوسری احادیث میں سخت تناقض لازم آتا ہے اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کے چارہ نہیں ہے کہ یہ حدیث اور اس کے امثال استعارات کے رنگ میں ہیں۔ کیونکہ اگر اس مضمون کو ظاہر پر حمل کیا جائے تو بوجہ تناقض یہ تمام حدیث رڈ کرنے کے لائق ٹھہرے گی۔ مگر الحمد للہ یہ بات فیصلہ پا چکی ہے کہ پیشگوئیوں میں یہی اصول ہے کہ ایک حصہ ان کا ظاہر پر حمل کیا جاتا ہے اور ایک حصہ استعارات کا ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث کو رڈ کرنے کی حاجت نہیں بلکہ گنجائش تاویل وسیع ہے۔ چونکہ وہ عقیدہ باطلہ جس کے ابطال کے لئے مسیح موعود نے آنا تھا دمشق سے ہی پیدا ہوا ہے یعنی عقائد تثلیث و نجات صلیبی ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم میں دمشق کو مسیح سے ایک تعلق تھا اور مسیح کی رُوحانیت کا ازل سے دمشق کی طرف رُخ تھا۔ پس جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کشف میں