ایّام الصّلح — Page 273
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۰ ۲۷۳ اتمام اصلح حق میری طرف ہے۔ پھر اس ثبوت کے ساتھ اور بہت سے دلائل ہیں کہ اس مسئلہ موت میسیج کو حق الیقین تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ لے کو اس استدلال کی غرض سے عام صحابہ کے مجمع میں پڑھنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور اللہ جل شانہ کا قرآن شریف میں فرمانا فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کرہ زمین کے سوا دوسری جگہ نہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور نہ مرسکتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیاح ہونا بھی اُن کی موت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سیاحت زمین تقاضا کرتی ہے کہ وہ صلیب سے نجات پا کر زمین پر ہی رہے ہوں ۔ ورنہ بجز اس زمانہ کے جو صلیب سے نجات پاکر ملکوں کا سیر کیا ہو اور کوئی زمانہ سیاحت ثابت نہیں ہوسکتا صلیب کے زمانہ تک نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھے۔ یہ زمانہ تبلیغ کے لئے بھی تھوڑا تھا چہ جائیکہ اس میں تمام ملک کی سیاحت کرتے۔ ایسا ہی مرہم عیسی جو قریب طب کی ہزار کتاب میں لکھی ہے ثابت کرتی ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت حضرت عیسی آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ اپنے زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج کراتے رہے۔ اس کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زمین پر ہی رہے اور زمین پر ہی فوت ہوئے۔ معراج کی رات میں بھی اُن کی روح وفات شدہ ارواح میں پائی گئی۔ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ و عیسے زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے اب اس قدر دلائل موت کے بعد کوئی خدا ترس اُن کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہیں رکھ سکتا ۔ (۲) آب جب وفات حضرت عیسی علیہ السلام کی ثابت ہو گئی تو مسیح موعود کی پیشگوئی کے بجز (۴۳) م اس استدلال کو سن کر تمام صحابہ خاموش رہے اور کسی نے مخالفت ظاہر نہ کی اور یہ نہ کہا کہ تمام انبیاء فوت نہیں ہوئے بلکہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں لہذا اس سے حضرت عیسی کے فوت پر اجماع صحابہ ثابت ہوا اور اگر اس سے پہلے کسی کا اس کے مخالف خیال بھی تھا جو حدیثوں میں روایت کیا گیا ہو کالعدم ہو گیا۔منہ ال عمران: ۲۱۴۵ الاعراف: ۲۶