ایّام الصّلح — Page 271
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۱ امام الصلح ان کو سمجھنا چاہیے کہ توفی نیند کو ہرگز نہیں کہتے اور کبھی یہ لفظ نیند پر اطلاق نہیں کیا گیا اور نہ قرآن میں نہ کسی لغت کی کتاب میں نہ حدیث کی کتابوں میں نیند کے معنے لئے گئے ۔ بلکہ توفی کے دوہی معنے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا۔ یعنی اول یہ کہ ہمیشہ کے لئے رُوح کو قبض کرنا اور یہ معنے موت سے متعلق ہیں اور دوسرے یہ معنے کہ تھوڑے عرصہ کے لئے روح کو قبض کرنا اور پھر بدن کی طرف واپس بھیج دینا اور یہ قبض روح کی صورت نیند کی حالت سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یہ قبض روح کی صورت اس وقت کسی پر صادق آئے گی جب خدا تعالی کسی شخص کی نیند کی حالت میں اُس کی روح کو قبض کرے جیسا کہ ہر روز رات کو اسی طرح ہماری روح قبض کی جاتی ہے۔ ہمارا جسم کسی چار پائی یا چٹائی پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہماری روح کو تمام رات یا جس وقت تک چاہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ جب رُوح کے افعال میں ہماری خود اختیاری معطل پڑ جاتی ہے۔ پھر رات گذرنے کے بعد یا جس وقت خدا تعالیٰ چاہے ہماری روح پھر ہمارے بدن کی طرف پھیری جاتی ہے گویا ہم رات کو مرتے اور دن کو زندہ کئے جاتے ہیں۔ پس نیند کی حالت میں جو قبض روح ہوتا ہے اس کی یہی مثال ہے جو ہم تمام لوگوں کا چشم دید ماجرا ہے ۔ مگر ہم اور ہمارے تمام مخالف جانتے ہیں کہ جب رات کو ہماری روح قبض کی جاتی ہے تب اگر چہ خدا تعالیٰ جہاں چاہتا ہے ہماری روح ۴۱ ہے کو لے جاتا ہے مگر ہمارا جسم اپنی جگہ سے ایک بالشت بھی حرکت نہیں کرتا ۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیند کی حالت میں ہمارا جسم آسمان پر چلا جاتا ہے یا اپنی قرارگاہ سے کچھ حرکت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ غرض یہ فیصلہ نہایت صفائی سے ہو گیا ہے کہ توفی کے معنے روح کا قبض کرنا ہے خواہ نیند کے عالم کی طرح تھوڑی مدت تک ہو یا موت کے عالم کی طرح حشر کے وقت تک ۔ اس جگہ یادر ہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔ میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گوئیں جانتا ہوں کہ