ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 550

ایّام الصّلح — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۶ اتمام اصلح سے حاصل ہوتا ہے جو جان کو تھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اور کسی دوسرے کے خون سے نہیں بلکہ اپنی بچی قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔ کیسا مشکل کام ہے۔ آہ صد آہ! میں مناسب دیکھتا ہوں کہ صفائی بیان کے لئے صفات اربعہ مذکورہ کی تشریح بذیل تفسیر سورۂ فاتحہ اس جگہ لکھ دوں تا معلوم ہو کہ کیونکر اللہ جل شانہ نے اپنی کتاب کی پہلی سورۃ میں ہی دعا کے لئے ترغیب دی ہے۔ اور وہ یہ ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ آمین ۔ ترجمہ: خدا جس کا نام اللہ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔ اور ہر ایک تعریف اُسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔ ہم (اے صفات کا ملہ والے ) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔ اور ان راہوں سے بچا جو ان لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیر ہ عذابوں سے دُنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز اُن لوگوں کی راہوں سے بیچا کہ جن پر اگر چہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا۔ مگر اُخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اب واضح رہے کہ یہ سورۃ قرآن شریف کی پہلی سورۃ ہے جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیونکہ ابتدا اس سے ہے اور اس کا نام اُمّ الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اس میں نوٹ : ان آیات سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا جس نے اللہ کے نام سے قرآن میں اپنے تئیں ظاہر کیا وہ رب العالمین ہو کر مہدہ ہے تمام فیضوں کا اور رحمان ہو کر معطلی ہے تمام انعاموں کا۔ اور رحیم ہو کر قبول کرنے والا ہے تمام سودمند دعاؤں اور کوششوں کا اور مالک یوم الدین ہو کر بخشنے والا ہے کوششوں کے تمام آخری ثمرات کا ۔ منہ الفاتحة: اتاب