ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 550

ایّام الصّلح — Page 245

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۵ امام الصلح عالم معاد کی لذات اور خوشحالی حقیقی کی جستجو اُس کو نہیں ہوتی۔ اور اگر کوئی نسخہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کا نکلے تو اپنے منہ سے اس بات کے کہنے کے لئے طیار ہے کہ میں بہشت اور عالم آخرت کی نعمتوں کی خواہش سے باز آیا۔ پس اس کا کیا سبب ہے؟ یہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت اور رحمت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں۔ پس حق کے طالب کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اس حقیقی ایمان کی تلاش میں لگا ر ہے اور اپنے تئیں یہ دھوکا نہ دے کہ میں مسلمان ہوں اور خدا اور عام ہے رسول پر ایمان لاتا ہوں۔ قرآن شریف پڑھتا ہوں شرک سے بیزار ہوں ۔ نماز کا پابند ہوں اور ناجائز اور بد باتوں سے اجتناب کرتا ہوں ۔ کیونکہ مرنے کے بعد کامل نجات اور کچی خوشحالی اور حقیقی سرور کا وہ شخص مالک ہوگا جس نے وہ زندہ اور حقیقی نو ر اس دنیا میں حاصل کر لیا ہے جو انسان کے منہ کو اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور ارادوں کے ساتھ خدا تعالی کی طرف پھیر دیتا ہے اور جس سے اس سفلی زندگی پر ایک موت طاری ہو کر انسانی روح میں ایک کچی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندہ اور حقیقی نور کیا چیز ہے؟ وہی خداداد طاقت ہے جس کا نام یقین اور معرفت نامہ ہے۔ یہ وہی طاقت ہے جو اپنے زور آور ہاتھ سے ایک خوفناک اور تاریک گڑھے سے انسان کو باہر لاتی اور نہایت روشن اور پر امن فضا میں بٹھا دیتی ہے اور قبل اس کے جو یہ روشنی حاصل ہو تمام اعمال صالحہ رسم اور عادت کے رنگ میں ہوتے ہیں اور اس صورت میں ادنی ادنی ابتلاؤں کے وقت انسان ٹھوکر کھا سکتا ہے بجز اس مرتبہ یقین کے خدا سے معاملہ صافی کس کا ہوسکتا ہے؟ جس کو یقین دیا گیا ہے وہ پانی کی طرح خدا کی طرف بہتا ہے اور ہوا کی طرح اُس کی طرف جاتا ہے اور آگ کی طرح غیر کو جلا دیتا ہے اور مصائب میں زمین کی طرح ثابت قدمی دکھلاتا ہے۔ خدا کی معرفت دیوانہ بنادیتی ہے مگر لوگوں کی نظر میں دیوانہ اور خدا کی نظر میں عقلمند اور فرزانہ۔ یہ شربت کیا ہی شیریں ہے کہ حلق سے اُترتے ہی تمام بدن کو شیر میں کر دیتا ہے اور یہ دودھ کیا ہی لذیذ ہے کہ ایک دم میں تمام نعمتوں سے فارغ اور لا پرواہ کر دیتا ہے ۔ مگر ان دعاؤں سے