ایّام الصّلح — Page 244
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۴ امام الصلح اس کو بے سود سمجھنا یا جذب فیوض کے لئے اس کو ایک محرک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیت ہے انکار کرنا ہے۔ مگر یہ انکار در پردہ دہریت کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔ وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالی کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تفرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالی در حقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور درحقیقت اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ امر مقدم اور ایک بھاری مرحلہ جو ہمیں طے کرنا چاہئیے وہ خداشناسی ہے اور اگر ہماری خداشناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہوتو ہمارا ایمان ہرگز منو ر اور چمکیلا نہیں ہوسکتا۔ اور یہ خداشناسی جب تک کہ رحیمیت کی صفت کے ذریعہ سے ہمارا چشم دید واقعہ نہ بن جائے تب تک ہم کسی طرح سے اپنے رب کریم کی حقیقی معرفت کے چشمہ سے آب زلال نہیں پی سکتے ۔ اگر ہم اپنے تئیں دھوکا نہ دیں تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم تکمیل معرفت کے لئے اس بات کے محتاج ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ذریعہ سے تمام شکوک و شبہات ہمارے دور ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل اور قدرت کی صفات تجربہ میں آکر ہمارے دل پر ایسا قوی اثر پڑے کہ ہمیں اُن نفسانی جذبات سے چھڑائے جو محض کمزوری ایمان اور یقین کی وجہ سے ہمارے پر غالب آتے اور دوسری طرف رُخ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسان اس چند روز و دنیا میں آکر بوجہ اس کے کہ خدا شناسی کی پر زور کر نہیں اُس کے دل پر نہیں پڑتیں ایک خوفناک تاریکی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس قدر دنیا اور دنیا کی املاک اور دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اور دوستیں اس کو پیاری معلوم ہوتی ہیں اس قدر