ایّام الصّلح — Page 243
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۳ امام الصلح (1) ربوبیت اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرائیہ وجود پہنتے ہیں ۔ (۲) رحمانیت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے ۔ یعنی اُس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے (۱۵) اور چیزوں سے نہیں ۔ (۳) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذو العقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے ۔ (۴) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامن افلاس پھیلاتے ہیں اور بچی کیچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ چارا الہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا سے کسی کا حق نہیں جو دعوے سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے ۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہیں جو قرآنی تعلیم اور تحقیق عقل سے ثابت ہوتی ہیں ۔ اور منجملہ ان کے رحیمیت کی صفت ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ کوئی انسان دعا کرے تا اس دعا پر فیوض الہی نازل ہوں ۔ ہم نے براہین احمدیہ اور کرامات الصادقین میں بھی یہ ذکر لکھا ہے کہ کیونکر یہ چاروں صفتیں لغت و نشر مرتب کے طور پر سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں اور کیونکر صحیفہ فطرت پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ اسی ترتیب سے جو سورہ فاتحہ میں ہے یہ چاروں صفتیں خدا کی فعلی کتاب قانون قدرت میں پائی جاتی ہیں ۔ اب دعا سے انکار کرنا یا