ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 550

ایّام الصّلح — Page 242

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۲ امام الصلح (۱) ایک یہ کہ اُس بلا کو دور کر دیتا ہے جس کے نیچے ہم دب کر مرنے کو تیار ہیں۔ (۲) دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کے لئے ہمیں فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اُس میں لذت بخشا ہے اور انشراح صدر عنایت فرماتا ہے۔ پس ان دونوں طریقوں سے ثابت ہے کہ دُعا سے ضرور نصرت الہی نازل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ دُعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے۔ اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر تو حید پر پختگی حاصل ہو ۔ کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مُرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔ (۲) دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو (۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔ (۴) چوتھے یہ کہ اگر دُعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ لیکن اگر کسی کو بطور خود مرادیں ملتی جائیں اور خدا تعالیٰ سے دوری اور محجوبی ہو تو وہ تمام مرادیں انجام کارحسرتیں ہیں اور وہ تمام مقاصد جن پر فخر کیا جاتا ہے آخر الا مر جائے افسوس اور تائف ہیں۔ دنیا کے تمام عیش آخر رنج سے بدل جائیں گے اور تمام راحتیں دُکھ اور درد دکھائی دیں گی۔ مگر وہ بصیرت اور معرفت جو انسان کو دعا سے حاصل ہوتی ہے اور وہ نعمت جو دعا کے وقت آسمانی خزانہ سے ملتی ہے وہ کبھی کم نہ ہوگی اور نہ اُس پر زوال آئے گا بلکہ روز بروز معرفت اور محبت الہی میں ترقی ہو کر انسان اس زینہ کے ذریعہ سے جو دُعا ہے فردوس اعلیٰ کی طرف چڑھتا چلا جائے گا ۔ خدا تعالی کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُمّ الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چار صفتیں یہ ہیں۔ ربوبیت - رحمانیت - رحیمیت - مالكيت يوم الدين