آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 360

۳۶۰ روحانی خزائن جلد۴ آسمانی فیصلہ ۱۲ میں ان تمام مقامات معترض علیہا کو لکھ کر منصفین کو دکھلاؤں گا کہ کیا در حقیقت میں نے اسلام کے عقیدہ سے انحراف کیا ہے یا انہیں کی آنکھوں پر پردہ اور انہیں کے دلوں پر مہریں ہیں کہ باوجود علم کے دعوے کے حقیقت کو شناخت نہیں کر سکتے اور اس پل کی طرح جو یکد فعہ ٹوٹ کر ہر طرف ایک سیلاب پیدا کر دے لوگوں کی سد راہ ہور ہے ہیں یا درکھو کہ آخر یہ لوگ بہت شرمندگی کے ساتھ اپنے منہ بند کر لیں گے اور بڑی ندامت اور ذلت کے ساتھ تکفیر کے جوش سے دستکش ہو کر ایسے ٹھنڈے ہو جائیں گے کہ جیسے کوئی بھڑکتی ہوئی آگ پر پانی ڈال دے لیکن انسان کی تمام قابلیت اور زیر کی اور عقلمندی اس میں ہے کہ سمجھانے سے پہلے سمجھے اور جتلانے سے پہلے بات کو پا جائے اگر سخت مغز خواری کے بعد سمجھا تو کیا سمجھا بہتوں پر عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ کافر بنانے اور گالیاں دینے کے بعد پھر رجوع کریں گے اور بدظنی اور بدگمانی کے بعد پھر حسن ظن پیدا کر لیں گے مگر کہاں وہ پہلی بات اور کہاں یہ ۔ اکنوں ہزار عذر بیاری گناه را مرشوی کرده را نبود زیب دختری سواے میری پیاری قوم اس وقت کو غنیمت سمجھ یہ تیرا گمان صحیح نہیں ہے کہ اس صدی کے سر پر آسمان و زمین کے خدا نے کوئی مجد داپنی طرف سے نہ بھیجا بلکہ کافر اور دجال بھیجا تا زمین میں فساد پھیلائے اے قوم نبی علیہ السلام کی پیشگوئی کا کچھ لحاظ کر اور خدائے تعالیٰ سے ڈر اور نعمت کو رد مت کر۔ غافل مشوگر عاقلی در یاب گر صاحبدلی شاید که نتوان یافتن دیگر چنین ایام را والسّلامُ على من اتبع الهدى نوٹ ۔ مندرجہ بالا رسالہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء کو بعد نماز ظہر مسجد کلاں واقعہ قادیان میں ایک جم غفیر کے روبرو مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا اور بعد اختتام یہ تجویز حاضرین کے روبرو پیش کی گئی کہ انجمن کے ممبر کون کون صاحبان قرار دیئے جائیں اور کس طرح اس کی کارروائی شروع ہو ۔ حاضرین نے جن کے نام نامی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں اور جو محض تجویز مذکورہ بالا پر غور کرنے اور مشورہ کرنے کے لئے تشریف لائے تھے بالا تفاق یہ قرار دیا کہ سر دست رسالہ مذکور شائع کر دیا جائے اور مخالفین کا عندیہ معلوم کر کے بعد ازاں بتراضی فریقین انجمن کے ممبر مقرر کئے جائیں اور کارروائی شروع کی جائے جو اصحاب اس جلسہ میں موجود ہوئے ان کے نام نامی یہ ہیں :۔ منشی محمد روڑ ا صاحب نقشہ نویس محکمہ مجسٹریٹ کپورتھلہ منشی محمد خان صاحب اہلمد فوجداری در حافظ محد علی صاحب کپورتھلہ منشی محمد عبدالرحمن صاحب محرر محکمہ جرنیلی ایضا منشی سردار خان صاحب کورٹ دفعدار / مرزا خدا بخش صاحب اتالیق نواب مالیر کوٹلہ منشی محمد حبیب الرحمن رئیس کپور تھلہ ایضاً منشی امداد علی خان صاحب محرد سرشته تعلیم / منشی رستم علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے لاہور منشی ظفر احمد صاحب اپیل نولیس ۔ // // مولوی محمد حسین صاحب کپورتھلہ ڈپٹی حاجی سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار