آسمانی فیصلہ — Page 336
روحانی خزائن جلد۴ ۳۳۶ آسمانی فیصلہ جان شاری کے ساتھ خادم دین اسلام ہے اور کس قدر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کے شائع کرنے میں فدا شدہ ہے مگر پھر بھی میاں نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی نے صبر نہ کیا جب تک کہ اس عاجز کو کافر قرار نہ دے دیا میاں نذیر حسین صاحب کی حالت نہایت ہی قابل افسوس ہے کہ اس پیرانہ سالی میں کہ گور میں پیراٹکا رہے ہیں اپنی عاقبت کی کچھ پروانہ کی اور اس عاجز کو کافر ٹھہرانے کیلئے دیانت اور تقویٰ کو بالکل ہاتھ سے چھوڑ دیا اور موت کے کنارہ تک پہنچ کر اپنے اندرون کا نہایت ہی برا نمونہ دکھایا خدا ترس اور متدین اور پر ہیز گار علماء کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ جب تک ان کے ہاتھ میں کسی کے کافر ٹھہرانے کیلئے ایسی صحیحبہ یقینیہ قطعیہ وجوہ نہ ہوں کہ جن اقوال کی بناء پر اس پر کفر کا الزام لگایا جاتا ہے ان اقوال مستلزم کفر کا وہ اپنے مُنہ سے صاف اقرار کرے انکار نہ کرے تب تک ایسے شخص کو کافر بنانے میں جلدی نہ کریں لیکن دیکھنا چاہئے کہ میاں نذیر حسین اسی تقوی کے طریق پر چلے ہیں یا اور طرف قدم مارا۔ سو واضح ہو کہ میاں نذیر حسین نے تقویٰ اور دیانت کے طریق کو بکلی چھوڑ دیا میں نے دہلی میں تین اشتہار جاری کئے اور اپنے اشتہارات میں بار بار ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں اور عقیدۂ اسلام رکھتا ہوں بلکہ میں نے اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر پیغام پہنچایا کہ میری کسی تحریر یا تقریر میں کوئی ایسا امر نہیں ہے جو نعوذ باللہ عقیدہ اسلام کے مخالف ہو صرف معترضین کی اپنی ہی غلط فہمی ہے ورنہ میں تمام عقائد اسلام پر بدل و جان ایمان رکھتا ہوں اور مخالف عقیدہ اسلام سے بیزار ہوں لیکن حضرت میاں صاحب نے میری باتوں کی طرف کچھ بھی التفات نہ کی اور بغیر اس کے کہ کچھ تحقیق اور تفتیش کرتے مجھے کا فرٹھہرایا بلکہ میری طرف سے أنا مؤمن انا مؤمن کے صاف اقرارات بھی سن کر پھر بھی لَسْتَ مُؤْمِنًا کہہ دیا اور جا بجا اپنی تحریروں اور تقریروں اور اپنے شاگردوں کے اشتہارات میں اس عاجز کا نام کا فرو بے دین اور دجال رکھا اور عام طور پر مشتہر کر دیا کہ یہ شخص کافر اور بے ایمان اور خدا اور رسول سے روگردان ہے سومیاں صاحب کی اس پھونک سے عوام الناس میں ایک سخت آندھی پیدا ہو گئی اور ہندوستان اور پنجاب کے لوگ ایک سخت فتنہ میں پڑ گئے خاص کر دہلی والے تو میاں صاحب کی اس اخگر اندازی سے آگ ببولا بن گئے شاید دہلی میں