آریہ دھرم — Page 18
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸ آریہ دھرم نیوگ کے ایسے قسم کے بارے میں درج ہیں یعنی اس قسم نیوگ کے لئے جو خاوند کے زندہ اور نا قابل اولا د ہونے کی حالت میں کرایا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ अन्यमिच्छस्व सुभगे पतिं मत् متر ائیم انحس و سوکھنگے تم مت رگوید منڈل ۱۰۔ سکت ۱۰ منتر rie en ترجمہ بھاش پنڈت دیانند ۔ ۔ جب پتی سنتان اُتپتی میں اسمرت ہو دے تب اپنی اسنتری کو آ گیا دیوے کہ ہے سو بھنگی ! جب خاوند اولاد جنانے کے قابل نہ رہے تب اپنی بیوی کو حکم دے کہ اے بھاگوان سو بھاگ کے اچھا کرنے ہارے استری تو مجھ سے دوسرے پتی کی اچھیا کر کیونکہ اب مجھ سے اولاد کی خواہش کرنے والی عورت تو مجھ سے دوسرے مرد کی درخواست کر کیونکہ اب میرے سے ستان الیقی کی آشامت کر۔ اولا د ہونے کی امید مت رکھ परन्तु उस विवाहित महाशय पति की सेवा में तत्पर रहे। सत्यार्थ पन्न۔ २२६ پشتو اُس و واہت مہش پتی کے سیوا میں پر رہے ۔ ویسی ہی انٹری بھی جب روگ آدمی لیکن اُس حقیقی خاوند کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہے۔ ایسا ہی عورت بھی جب بیماری وغیرہ دوشوں سے گزشت ہو کر سنتان آسپتی میں اسمرت ہووے تب اپنے پپتی کو آگیا دیوے سے اولاد جننے کے قابل نہ رہے تب اپنے خاوند کو حکم د۔ سببوں دے 11 کہ ہے سوامی! آپ سختان اتپتی اچھیا مجھ سے چھوڑ کے کسی دوسری ودھوا استری سے کہ اے صاحب مجھ سے اُس چھوڑیں اور کسی بیوہ عورت ނ نیوگ کر کے سنتان آسپتی کیجئے جیسا کہ پانڈ راجا کی انٹری گنتی اور مادری آدی نے نیوگ کر کے اولاد جنالیں جیسا کہ راجہ پانڈ کی بیویوں کنتی اور مادری نے کیا تھا اور جیسا کہ بیاس جی نے چترانگد اور پیچتر بیرج کے مرجانے پہنچات اُن اپنے بھائیوں کی کیا تھا اور جیسا کہ بیاس جی نے چترانگد اور پختر بیرج کے مرنے کے بعد اپنے بھاوجوں کے استریوں سے نیوگ کر کے انیکا انبہ میں۔ اور دھرت راسٹ انبان میں پانڈا اور داسی میں نیوگ سے بچے جنائے تھے۔