آریہ دھرم — Page 17
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷ آریہ دھرم میں ضرور آفت ہوتی ہے یا پیدا ہی نہیں ہوتے یا ضعیف میت کی طرح ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ دنیا میں نہ ہزار ہا بلکہ لاکھوں موجود ہیں۔ اور بعض باعث کسی روی قسم آتشک اور احتراق منی کے نا قابل اولا د ہو جاتے ہیں۔ یہی قسمیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں مگر ان لوگوں کی شہوت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ بعض صورتوں میں تو شہوت اوروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور اطباء اور ڈاکٹروں کے نزدیک یہ لوگ نامرد کہلاتے ہیں اور یہ بات بھی فیصلہ شدہ ہے کہ ہمارے اس ملک میں کم سے کم فیصدی ایک مرد ایسا ہوتا ہے کہ جس کے کیڑوں میں آفت ہونے کی وجہ سے اولاد نہیں ہوتی یا ہو کر مر جاتی ہے تو اس صورت میں ہر یک گاؤں اور قصبہ میں کم سے کم دو تین ہندو عورتوں کو نیوگ کی ضرورت پیش آتی ہوگی اور شہروں میں تو صد با جوان عورتوں کا نیوگ کرانا پڑتا ہوگا۔ اور جو صرف شہوت فرو کرنے کے لئے نیوگ ہے وہ اس سے الگ رہا۔ سی ڈاکٹری اور طبی تحقیقاتوں سے ثابت ہو چکا ہے جس سے چاہیں دریافت کر لیں اور کسی ایسے قصبہ یا شہر کا نشان نہیں دے سکیں گے جس میں اس قسم کے لوگ نہ پائے جائیں۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ نیوگ جوان عورتوں کا ہی ہوگا کیونکہ پیرانہ سالی میں تو عورت خود نا قابل اولا د ہو جاتی ہے اور جب جوان عورت کا نیوگ ہوا اور اُس کا خاوند بھی جوان ہے اور قوت باہ پورے طور پر اپنے اندر رکھتا ہے بلکہ قوت کی رو سے ہیرج داتا سے کچھ زیادہ ہی ہے تو اس صورت میں قطع نظر اس بے حیائی اور دیوٹی کے جو ایک شخص (10) اپنے ہاتھ سے اپنی جوان عورت کو دوسرے سے ہم بستر کرا دے یہ رشک بھی اُس کے لئے تھوڑا نہیں ہوگا کہ وہ تمام رات شہوت کے زور سے تڑپتا رہے اور اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی جوان اور خوبصورت عورت دوسرے کے نیچے مُنہ کالا کر دے اور وہ دیکھے اور صبر کرے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ بے غیرتی اور دیوٹی کی وجہ سے ایسے بیرج داتا سے پر ہیز نہیں کرے گا تو البتہ اپنے جوش شہوت کی رقابت سے اُس پیرج داتا کو جوتی مار کر نکال دے گا اور آپ اُس عورت سے ہم بستر ہوگا۔ بالآخر یادر ہے کہ جن شرتیوں کا حوالہ پنڈت دیانند نے دیا ہے اُن سے ثابت ہوتا ہے که عورت حسب ضرورت دن مختلف مردوں سے نیوگ کر اسکتی ہے۔ اب ہم ناظرین کے ملاحظہ کے لئے ان شرتیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو ستیارتھ پر کاش میں