آریہ دھرم — Page xxxi
اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تُو کھڑا ہو۔یہ حمایتِ الٰہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج بھی کر کے اِن معارف کے سننے کے لئے ضرور بمقام لاہور تاریخ جلسہ پر آویں کہ اُن کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہوں گے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہوں گے۔والسلام علیٰ من اتبع الہدی۔خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۶ء (مجموعہ اشتہار۔جلدنمبر۱ صفحہ ۶۱۴،۶۱۵۔شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بطور نمونہ دو تین اخبارات کی آراء ذیل میں درج کر دی جائیں۔سول اینڈ ملٹری گزٹ (لاہور) نے لکھا:۔’’اِس جلسہ میں سامعین کو دلی اور خاص دلچسپی میرزا غلام احمدؑ قادیانی کے لیکچر کے ساتھ تھی جو اسلام کی حمایت و حفاظت میں ماہر کامل ہیں۔اس لیکچر کے سُننے کے لئے دُور و نزدیک سے مختلف فرقوں کا ایک جمِّ غفیر اُمڈ آیا تھا۔اور چونکہ مرزا صاحب خود تشریف نہیں لا سکتے تھے اس لئے یہ لیکچر اُن کے ایک لائق شاگرد منشی عبدالکریم صاحب فصیح سیالکوٹی نے پڑھ کر سُنایا۔۲۷؍ تاریخ کو یہ لیکچر تین گھنٹہ تک ہوتا رہا اور عوام الناس نے نہایت ہی خوشی اور توجّہ سے اس کو سُنا لیکن ابھی صرف ایک سوال ختم ہوا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے وعدہ کیا کہ اگر وقت ملا تو باقی حصہ بھی سُنا دوں گا اِس لئے مجلس انتظامیہ اور صدر نے یہ تجویز منظور کر لی کہ ۲۹؍ دسمبر کا دن بڑھا دیا جائے۔‘‘ (ترجمہ) اخبار ’’ چودھویں صدی‘‘ (راولپنڈی )نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اِس لیکچر پر مندرجہ ذیل تبصرہ کیا:۔’’ان لیکچروں میں سب سے عمدہ لیکچر جو جلسہ کی رُوح رواں تھا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبدالکریم صاحب