آریہ دھرم — Page xxvii
کہ کونسا مذہب درحقیقت سچائیوں اور صداقتوں سے بھرا ہوا ہے۔اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ میں اپنے اس سچّے جوش کو بیان کر سکوں۔‘‘ اِس مذہبی کانفرنس یا جلسہ اعظم مذاہب لاہور میں شمولیت کے لئے مختلف مذاہب کے نمائندوں نے سوامی صاحب کی دعوت قبول کی اور دسمبر ۱۸۹۶ء کے بڑے دن کی تعطیلات میں بمقام لاہور ایک جلسۂ اعظم مذاہب منعقد ہوا جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے کمیٹی جلسہ کی طرف سے اعلان کر دہ پانچ سوالوں پر تقریریں کیں جو کمیٹی کی طرف سے بغرض جوابات پہلے شائع کر دیئے گئے تھے اور اُن کے جوابات کے لئے کمیٹی کی طرف سے یہ شرط لگائی گئی تھی کہ تقریر کرنے والا اپنے بیان کو حتّی الامکان اس کتاب تک محدود رکھے جس کو وہ مذہبی طور سے مقدس مان چکا ہے۔سوالات یہ تھے:۔۱۔انسان کی جسمانی، اخلاقی اور رُوحانی حالتیں۔۲۔انسان کی زندگی کے بعد کی حالت یعنی عقبیٰ۔۳۔دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ ۴۔کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے؟ ۵۔علم یعنی گیان اور معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں؟ (رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ’’ب‘‘ مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور ۱۸۹۷ ء) اِس جلسہ میں جو ۲۶؍ دسمبر سے ۲۹؍ دسمبر تک ہوا سناتن دھرم ، ہندو ازم، آریہ سماج، فری تھنکر، برہمو سماج، تھیو سوفیکل سوسائٹی، ریلیجن آف ہارمنی، عیسائیت ، اسلام اور سکھ ازم کے نمائندوں نے تقریریں کیں لیکن ان تمام تقاریر میں سے صرف ایک ہی تقریر ان سوالات کا حقیقی اور مکمل جواب تھی۔جس وقت یہ تقریر حضرت مولوی عبدالکریم ؓ سیالکوٹی نہایت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔اُس وقت کا سماں بیان نہیں کیا جا سکتا۔کسی مذہب کا کوئی شخص نہیں تھا جو بے اختیار تحسین و آفرین کا نعرہ بلند نہ کر رہا ہو۔کوئی شخص نہ تھا جس پر وجد اور محویّت کا عالم طاری نہ ہو۔طرزِ بیان نہایت دلچسپ اور ہر دلعزیز تھا۔اس سے بڑھ کر اس مضمون کی خوبی اور کیا دلیل ہو گی کہ مخالفین تک عش عش کر رہے تھے۔مشہور و معروف انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ لاہور نے باوجود عیسائی ہونے کے صرف اِسی مضمون کی اعلیٰ درجہ کی تعریف لکھی اور اِسی کو قابلِ تذکرہ بیان کیا۔