آریہ دھرم — Page xxv
شواہد بہت سے پیدا ہو گئے اور مسیح موعود کی بعثت کا ایک بڑا مقصد جو احادیث میں کسرِ صلیب بیان ہوا تھا وہ پورا ہو گیا۔فالحمد ﷲ علٰی ذالک ایک غلطی کا ازالہ جلد نہم کے آخر میں ہم ’’نور القرآن نمبر ۲‘‘ کے بعض ایڈیشنوں کی نقل کرتے ہوئے رسالہ ’’فطرتی معیار سے مذاہب کا مقابلہ‘‘ نور القرآن نمبر ۲ کے بعد شائع کر دیا لیکن درحقیقت یہ رسالہ ’’ست بچن‘‘ کا حصّہ ہے (دیکھو صفحہ ۲۷۶ جلد ہذا) اس لئے اس رسالہ کو مع حاشیہ متعلقہ جس کا عنوان ہے ’’مرہم حواریین جس کا دوسرا نام مرہم عیسٰی ‘‘ بھی ہے۔اس جلد میں ہم دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔اِسلامی اصول کی فلاسفی ایک صاحب سوامی سادھو شوگن چندر نامی جو تین چار سال تک ہندؤں کی کائستھ قوم کی اصلاح و خدمت کا کام کرتے رہے تھے ۱۸۹۲ ء میں انہیں یہ خیال آیا کہ جب تک سب لوگ اکٹھے نہ ہوں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔آخر انہیں ایک مذہبی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز سوجھی۔چنانچہ اس نوعیت کا پہلا جلسہ اجمیر میں ہوا۔اس کے بعد وہ ۱۸۹۶ء میں دوسری کانفرنس کے لئے لاہور کی فضا کو موزوں سمجھ کر اس کی تیاری میں لگ گئے۔سوامی صاحب نے اس مذہبی کانفرنس کے انتظامات کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس کے پریذیڈنٹ ماسٹردرگا پرشاد اور چیف سیکرٹری چیف کورٹ لاہور کے ایک ہندو پلیڈر لالہ دھنپت رائے بی۔اے ، ایل ایل بی تھے۔کانفرنس کے لئے ۲۶؍ ۲۷؍ ۲۸؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کی تاریخیں قرار پائیں اور جلسہ کی کارروائی کے لئے مندرجہ ذیل چھ موڈریٹر صاحبان نامزد کئے گئے۔۱۔رائے بہادر بابو پرتول چند صاحب جج چیف کورٹ پنجاب ۲۔خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب جج سمال کاز کورٹ لاہور ۳۔رائے بہادر پنڈت رادھا کشن صاحب کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جموں ۴۔حضرت مولوی حکیم نور الدینؓ صاحب طبیب شاہی