آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 550

آریہ دھرم — Page 104

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۴ آریہ دھرم ۷۰ اول یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پذیر ہو گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے اس قدر سخت بد زبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن باہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ فحش گوئی اور ٹھٹھے اور جنسی کا دریا بہ رہا ہے اور چونکہ اہل اسلام اپنے برگزیدہ نبی اور اُس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک نبی کی معرفت ان کو ملی نہایت غیرت مند ہیں لہذا جو کچھ دوسری قومیں طرح طرح کے مفتر یا نہ الفاظ اور رنگارنگ کی پر خیانت تحریر اور تقریر سے ان کے نبی اور اُن کی آسمانی کتاب کی تو ہین سے اُن کے دل دکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم اُن کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کیلئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف نہ ہو اور اسلامی اصول ایسے مہذبانہ ہیں کہ یاوہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا ہے اور ٹھٹھے اور جنسی اور ایسے الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اُس کے مقابل پر اُس کے پیغمبر اور مقتدا کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو ہر ایک مسلمان اُس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیکی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس میں کوئی مصلح نہیں گذرا اس لئے گذشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں ایک مسلمان ہرگز بد زبانی نہیں کر سکتا بلکہ اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے مگر قانونی تدارک بد نیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون کی رو سے بہت مشکل امر ہے لہذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہے اور مخالف فتح یاب کو اور بھی تو ہین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے ابھی تک اُس کا کوئی کافی تدارک قانون میں موجود نہیں اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ ے نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بدنیتی میں تمیز ہو جائے یہی سبب ہے کہ نیک نیتی کے