آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 550

آریہ دھرم — Page 105

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۵ آریہ دھرم بہانہ سے ایسی دل آزار کتابوں کی کروڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے لہذا ان شرائط کا ہونا ضروری ہے جو واقعی حقیقت کے کھلنے کے لئے بطور موید ہوں اور صحت نیت اور عدم صحت کے پر کھنے کے لئے بطور معیار کے ہوسکیں سو وہ معیار وہ دونو شرطیں ہیں جو او پر گذارش کر دی گئی ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جو شخص کوئی ایسا اعتراض کسی فریق پر کرتا ہے جو وہی اعتراض اُس پر بھی اس کی الہامی کتابوں کی رو سے ہوتا ہے یا ایسا اعتراض کرتا ہے جو اُن کتابوں میں نہیں پایا جاتا جن کو فریق معترض علیہ نے اپنی مسلمہ مقبولہ کتا بیں قرار دے کر اُن کے بارے میں اپنے مذہبی مخالفوں کو بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مطلع کر دیا ہے تو بلاشبہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شخص معترض نے صحت نیت کو چھوڑ دیا ہے تو اس صورت میں ایسے مکار اور فریبی لوگ جن حیلوں اور تاویلوں سے اپنی بد نیتی کو چھپانا چاہتے ہیں وہ تمام حیلے نکھے ہو جاتے ہیں اور بڑی سہولت سے حکام پر اصل حقیقت کھل جاتی ہے اور اگر چہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یاوہ گولوگوں کی زبانیں روکنے کے لئے یہ ایک کامل علاج ہے مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بہت کچھ یاوہ گوئیوں اور ناحق کے الزاموں کا اس سے علاج ہو جائے گا۔ دوسری ضرورت اس قانون کے پاس ہونے کے لئے یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ملک کی اخلاقی حالت روز بروز بگڑتی جاتی ہے ایک شخص سچی بات کو سن کر پھر اس فکر میں پڑ جاتا ہے کہ کسی طرح جھوٹ اور افتراء سے مدد لے کر اُس سچ کو پوشیدہ کر دیوے اور فریق ثانی کو خواہ نخواہ ذلت پہنچا وے سو ملک کو تہذیب اور راست روی میں ترقی دینے کے لئے اور بہتان طرازی کی عادت سے روکنے کے لئے یہ ایک ایسی عمدہ تدبیر ہے جس سے بہت جلد دلوں میں کچی پر ہیز گاری پیدا ہو جائے گی۔ تیسری ضرورت اس قانون کے پاس کرنے کی یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ہماری محسن گورنمنٹ کے قانون پر عقل اور کانشنس کا اعتراض ہے چونکہ یہ دانا گورنمنٹ ہر یک نیک کام میں اول درجہ پر ہے تو کیوں اس قدر الزام اپنے ذمہ رکھے کہ کسی کو یہ بات کہنے کا موقعہ ملے کہ مذہبی مباحثات میں اُس کے قانون میں احسن انتظام نہیں ظاہر ہے کہ ایسی بے قیدی سے صلح کاری اور باہمی محبت دن بدن کم ہوتی جاتی ہے اور ایک فریق دوسرے فریق کی نسبت ایسا اشتعال رکھتا ہے کہ اگر ممکن ہو