آریہ دھرم — Page 85
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۵ آریہ دھرم بھی خرچ کریں کہ ہم میں سے کسی منتخب کے روبرو ایسے بیجا الزامات کی وجہ ثبوت ہمارے مذکورہ بالا مخالفوں سے دریافت فرما دیں تو زیرک طبع حکام کو فی الفور معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر یہ لوگ بے ثبوت بہتانوں سے سرکار انگریزی کی وفادار رعا یا اہل اسلام پر ظلم کر رہے ہیں ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جواب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو مناظرات اور مجادلات اور مباحثات مذہبی امور میں ہوں ان کی نسبت ہر یک قوم مسلمانوں اور عیسائیوں اور آریوں وغیرہ میں سے دوامر کے ضرور پابندر ہیں۔ (۱) اول یہ کہ ایسا اعتراض جو خود معترض کے ہی الہامی کتاب یا کتابوں پر جن کے الہامی ہونے پر وہ ایمان رکھتا ہے وارد ہو سکتا ہو یعنی وہ امر جو بنا اعتراض کی ہے اُن کتابوں میں بھی پایا جاتا ہو جن پر معترض کا ایمان ہے ایسے اعتراض سے چاہئے کہ ہر ایک ایسا معترض پر ہیز کرے۔ (۲) دوم اگر بعض کتابوں کے نام بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے کسی فریق کی طرف سے اس غرض سے شائع ہو گئے ہوں کہ در حقیقت وہی کتابیں ان کی مسلم اور مقبول ہیں تو چاہئے کہ کوئی معترض اُن کتابوں سے باہر نہ جائے اور ہر یک اعتراض جو اس مذہب پر کرنا ہوا نہیں کتابوں کے حوالہ سے کرے اور ہر گز کسی ایسی کتاب کا نام نہ لیوے جس کے مسلم اور مقبول ہونے ﴿۱۳﴾ کے بارے میں اشتہار میں ذکر نہیں اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو بلا تامل اُس سزا کا مستوجب ہو جو دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند میں مندرج ہے یہ التماس ہے جس کا پاس ہونا ہم بذریعہ کسی ایکٹ یا سرکلر کے گورنمنٹ عالیہ سے چاہتے ہیں اور ہماری زیرک گورنمنٹ اس بات کو مجھتی ہے کہ اس قانون کے پاس کرنے میں کسی خاص قوم کی رعایت نہیں بلکہ ہر یک قوم پر اس کا اثر مساوی ہے اور اس قانون کے پاس کرنے میں بے شمار برکتیں ہیں جن سے عامہ خلائق کے لئے امن اور عافیت کی راہیں کھلتی ہیں اور صد با بیہودہ نزاعوں اور جھگڑوں کی صف پیٹی جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور اُن شرارتوں کا دور ہو جانا ہے جو فتنوں