اَربعین — Page 473
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۷۳ اربعین نمبر ۴ سچائی ہے جو براہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔ مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میر خدا۔ مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔ میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔ اگر ان کے پہلے اور ان کے پچھلے اور ان کے زندے اور ان کے مردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لئے دعائیں کریں تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل پر بنا کر اُن کے منہ پر مارے گا۔ دیکھوصد با دانشمند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔ آسمان پر ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لا رہے ہیں۔ اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک سکتا ہے؟ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو رو کو ۔ وہ تمام مکر و فریب جو نبیوں کے مخالف کرتے رہے ہیں وہ سب کرو اور کوئی تدبیر اٹھانہ رکھو۔ ناخنوں تک زور لگاؤ۔ اتنی بددعائیں کرو کہ موت تک پہنچ جاؤ پھر دیکھو کہ کیا بگاڑ سکتے ہو؟ خدا کے آسمانی نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں مگر بد قسمت انسان دور سے اعتراض کرتے ہیں۔ جن دلوں پر مہریں ہیں ان کا ہم کیا علاج کریں۔ اے خدا! تو اس اُمت پر رحم کر ۔ آمین ۔ المشتهر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں ۲۹ / دسمبر ۱۹۰۰ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیاں