اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 615

اَربعین — Page 449

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۔ ۴۴۹ اربعین نمبر ۴ صفت سے شہرت دیتے ہیں کہ وہ ایک خود پرست متکبر بد خلق ہے ۔ لوگوں کو گالیاں دینے والا اور اپنے مخالفین کو سب وشتم کرنے والا بخیل زر پرست کذاب دجال بے ایمان خونی ہے۔ یہ سب خطاب اُن لوگوں کی طرف سے خدا کے نبیوں اور جھوٹی فتح کا نقارہ بجادیا اور مجھے گندی گالیاں دیں اور مجھے اس کے مقابلہ پر جاہل اور نادان قرار دیا۔ گویا میں اس نابغہ وقت اور محبان زمان کے رعب کے نیچے آکر ڈر گیا ورنہ وہ حضرت تو بچے دل سے بالمقابل عربی تفسیر لکھنے کے لئے طیار ہو گئے تھے اور اسی نیت سے لاہور تشریف لائے تھے ۔ پر میں آپ کی جلالت شان اور علمی شوکت کو دیکھ کر بھاگ گیا اے آسمان جھوٹوں پر لعنت کر آمین ۔ پیارے ناظرین کا ذب کے رسوا کرنے کے لئے اسی وقت جو ے دسمبر ۱۹۰۰ ء روز جمعہ ہے خدا نے میرے دل میں ایک بات ڈالی ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کا جہنم جھوٹوں کے لئے بھڑک رہا ہے کہ میں نے سخت تکذیب کو دیکھ کر خود اس فوق العادت مقابلہ کے لئے درخواست کی تھی۔ اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب مباحثہ منقولی اور اس کے ساتھ بیعت کی شرط پیش نہ کرتے جس سے میرا مدعا بکلی کالعدم ہو گیا تھا تو اگر لاہور اور قادیاں میں برف کے پہاڑ بھی ہوتے اور جاڑے کے دن ہوتے تو میں جب بھی لاہور پہنچتا اور ان کو دکھلاتا کہ آسمانی نشان ۱۸ اس کو کہتے ہیں مگر انہوں نے مباحثہ منقولی اور پھر بیعت کی شرط لگا کر اپنی جان بچائی اور اس گندے مکر کے پیش کر سے اپنی عزت کی پرواہ نہ کی لیکن اگر پیر جی صاحب حقیقت میں فصیح عربی تفسیر پر قادر ہیں اور کوئی قریب انہوں نے نہیں کیا تو اب بھی وہی قدرت اُن میں ضرور موجود ہوگی ۔ لہذا میں اُن کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اسی میری درخواست کو اس رنگ پر پورا کر دیں کہ میرے دعاوی کی تکذیب کے متعلق فصیح بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر لکھیں جو چارجز سے کم نہ ہو اور میں اس سورۃ کی تفسیر بفضل اللہ وقوتہ اپنے دعوئی کے اثبات کے متعلق سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کرنے سے “ہونا چاہیے۔(ناشر)