اَربعین — Page 450
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۵ اربعین نمبر ۴ ۱۸ مامورین کو ملتے ہیں جو سیاہ باطن اور دل کے اندھے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی یہی اعتراض اکثر خبیث فطرت لوگوں کے ہیں کہ اُس نے اپنی قوم کے لوگوں کو رغبت دی کہ تا وہ مصریوں کے سونے چاندی کے برتن اور زیور اور قیمتی کپڑے عاریتاً مانگیں اور محض دروغگو ئی کی راہ سے کہیں کہ ہم عبادت کے لئے جاتے ہیں چند روز تک یہ تمہاری چیزیں واپس لا کر دے دیں گے اور دل میں دعا تھا۔ آخر عہد شکنی کی اور جھوٹ بولا اور بیگا نہ مال اپنے قبضہ میں لاکر کنعان کی طرف بھاگ گئے ۔ اور در حقیقت یہ تمام اعتراضات ایسے ہیں کہ اگر معقولی طور پر ان کا جواب دیا جائے تو بہت سے احمق اور پست فطرت ان جوابات سے تسلی نہیں پا سکتے اس لئے خدا تعالیٰ فصیح بليغ عربی میں لکھوں گا۔ انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں تمام دنیا کے علماء سے مدد لے لیں ۔ عرب کے بلغاء فصحاء بلالیں ۔ لاہور اور دیگر بلا د کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کر لیں ۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ستر دن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے ایک دن بھی زیادہ نہیں ہوگا ۔ اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب ان کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُر خیال کریں تو میں پانسور و پیہ نقدان کو دوں گا۔ اور تمام اپنی کتابیں جلا دوں گا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا۔ اور اگر قضیه بر عکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر روز تک وہ کچھ بھی لکھ نہ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا اور کیسے سراسر ظلم اور سفلہ پن اور خیانت سے بعض اخبار والوں نے ان کی اپنی اخباروں میں حمایت کی ۔ میں اس کام کو انشاء اللہ تحفہ گولڑویہ کی تکمیل کے بعد شروع کر دوں گا اور جو شخص ہم میں سے صادق ہے وہ ہرگز شرمندہ نہیں ہوگا ۔ اب وقت ہے کہ اخباروں والے جنہوں نے بغیر دیکھے بھالے کے ان کی حمایت کی تھی ان کو اس کام کیلئے اٹھاویں۔ سنتر دن میں یہ بات داخل ہے کہ فریقین کی کتابیں چھپ کر شائع ہو جا ئیں ۔ منہ