اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 615

اَربعین — Page 433

روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۳۳ اربعین نمبر۴ کا ان مخالفوں کو یہ بے ثبوت فقرہ سُنانا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہیں مانتے اور نہ قرآن شریف کو من جانب اللہ مانتے ہیں محض لغو اور طفل تسلی سے بھی کمتر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ منکر اور معاند اس سے کیا اور کیونکر تسلی پکڑیں گے بلکہ ان کے نزدیک تو یہ صرف ایک دعوئی ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ ایسا کہنا کس قدر بیہودہ خیال ہے کہ اگر فلاں گناہ میں کروں تو مارا جاؤں گوکر وڑ ہا دوسرے لوگ ہر روز دنیا میں وہی گناہ کرتے ہیں اور مارے نہیں جاتے ۔ اور کیسا یہ مکروہ عذر ہے کہ دوسرے گناہگاروں اور منتریوں کو خدا کچھ نہیں کہتا یہ سزا خاص میرے لئے (۴) ہے۔ اور عجیب تریہ کہ ایسا کہنے والا یہ بھی تو ثبوت نہیں دیتا کہ گذشتہ تجربہ سے مجھے معلوم ہوا ہے اور لوگ دیکھ چکے ہیں کہ اس گناہ پر ضرور مجھے سزا ہوتی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کے حکیمانہ کلام کو جو دنیا میں اتمام حجت کے لئے نازل ہوا ہے۔ ایسے بیہودہ طور پر خیال کرنا خدا تعالی کی پاک کلام سے ٹھٹھا اور جنسی ہے اور قرآن شریف میں صدہا جگہ اس بات کو پاؤ گے کہ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہرگز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک موقع میں فرماتا ہے کہ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَری ۔ یعنی مفتری نامراد مرے گا ۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بایته کے یعنی اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے یا خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے خدا کے نبیوں کے ظاہر ہونے کے وقت خدا کی کلام کی تکذیب کی خدا نے ان کو زندہ نہیں چھوڑا اور بُرے بُرے عذابوں سے ہلاک کر دیا۔ دیکھو نوح کی قوم اور عاد و ثمود اور لوط کی قوم اور فرعون اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن مکہ والے ان کا کیا انجام ہوا۔ پس جبکہ تکذیب کرنے والے اسی دنیا میں سزا پا چکے تو پھر جو شخص خدا پر طه : ۶۲ الانعام:۲۲