اَربعین — Page 434
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۳۴ اربعین نمبر ۴ افترا کرتا ہے جس کا نام اس آیت میں پہلے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے وہ کیونکر بچ سکتا ہے کیا خدا کا صادقوں اور کا ذبوں سے معاملہ ایک ہو سکتا ہے اور کیا افتر ا کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں مالَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ لا اور پھر ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان يك كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ إِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ : یعنی اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ سے ہلاک ہو جائے گا اور اگر سچا ہے تو ضرور ہے کہ کچھ عذاب تم بھی چکھو کیونکہ زیادتی کرنے والے خواہ افترا کریں خواہ تکذیب کریں خدا سے مدد نہیں پائیں گے۔ اب دیکھو اس سے زیادہ تصریح کیا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہوگا بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں۔ اور ان کو اشاعت دین کے لئے مہلت دی جاتی ہے اور انسان کی اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت تیئیس برس ہیں کیونکہ اکثر نبوت کا ابتدا چالیس برس پر ہوتا ہے اور تیس برس تک اگر اور عمر ملی تو گویا عمدہ زمانہ زندگی کا یہی ہے۔ اسی وجہ سے میں بار بار کہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افترا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی تئیس برس تک مہلت پا سکے ضرور ہلاک ہو گا ۔ اس بارے میں میرے ایک دوست نے اپنی نیک نیتی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا " میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں ۔ اس سے کیونکر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افترا کرے تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا۔ میں نے اس کا یہی جواب دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ قول محل استدلال پر ہے اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ بھی الصافات : ۱۵۵ المؤمن: ٢٩ الحاقة : ۴۵ ۲۳ ۲۳