اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 615

اَربعین — Page 350

روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۵۰ اربعین نمبر ۲ صلوۃ اور سلام دونوں لفظ آئے ہیں اور مولوی محمد حسین بٹالوی رئیس المخالفین نے جب براہین احمد یہ کار یو یو لکھا اس کو پوچھنا چاہئے کہ کتاب مذکور کے صفحہ ۲۴۲ میں یہ الہام اُس نے درج پایا یا نہیں۔ اصحاب الصُفّة۔ وما ادراك ما اصحاب الصفّة ترى اعينهم تفيض من الدمع۔ يصلّون علیک ربنا اننا سمعنا مناديا ينادى للايمان وداعيا الى الله وسراجًا منیرا ۔ ترجمہ یہ ہے کہ یاد کر صفہ میں رہنے والے اور تو کیا جانتا ہے کہ کس مرتبہ کے آدمی اور کس کامل درجہ کی ارادت رکھنے والے ہیں صفہ کے رہنے والے۔ تو دیکھے ☆ گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ اور تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا یعنی ہم اُس پر ایمان لائے اور اس کی بات سنی اُس کی یہ آواز ہے کہ اپنے ایمانوں کو خدا پر قومی کرو وہ خدا کی طرف بلانے والا اور چمکتا ہوا چراغ ہے۔ اب دیکھو کہ اس الہام میں نیک بندوں کی یہ علامت رکھی ہے کہ میرے پر درود بھیجیں گے اور مولوی محمد حسین سے پوچھو کہ اگر یہ اعتراض کی جگہ تھی تو کیوں اُس نے ریویو کے لکھنے کے وقت اعتراض نہ کیا بلکہ اس الہام میں تو اس اعتراض (۵) سے سخت تر ایک اور اعتراض ہو سکتا تھا اور وہ یہ کہ داعی الی اللہ اور سراج منیر یہ دو نام انسانی عادت اور اسلامی فطرت میں داخل ہے کہ مومن کسی ذوق کے وقت اور کسی مشاہدہ کرشمہ قدرت کے وقت درود بھیجتا ہے ۔ سواس یصلون علیک کے فقرہ میں اشارہ ہے کہ وہ لوگ جو ہر دم پاس رہیں گے وہ کئی قسم کے نشان دیکھتے رہیں گے پس ان نشانوں کی تاثیر سے بسا اوقات اُن کے آنسو جاری ہو جائیں گے اور شدت ذوق اور رقت سے بے اختیار درود اُن کے منہ سے نکلے گا چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آرہا ہے اور یہ پیشگوئی بار بار ظہور میں آرہی ہے بشرط صحبت ہر ایک سعادت مند اس کیفیت کو حاصل کر سکتا ہے ۔ منہ