اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 615

اَربعین — Page 351

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۵۱ اربعین نمبر ۲ اور دو خطاب خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ پھر وہی دو خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے ۔ کیا یہ اعتراض درود بھیجنے سے کچھ کم تھا۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر براہین احمدیہ کے دوسرے الہامات پر اعتراض ہو سکتے تھے جن کا مولوی محمد حسین بٹالوی | نے ریویو لکھا اور جابجا قبول کیا کہ یہ الہامات خدا تعالی کی طرف سے ہیں بلکہ اس کے استاد میاں نذیر حسین دہلوی نے چند گواہوں کے رو برو براہین احمدیہ کی نسبت جس میں یہ الہامات تھے حد سے زیادہ تعریف کی اور فرمایا کہ جب سے اسلام میں سلسلہ تالیف و تصنیف شروع ہوا ہے براہین کی مانند افاضہ اور فضل اور خوبی میں کوئی ایسی تالیف نہیں ہوئی ۔ اور اُن کی غرض اس قدر تعریف سے براہین احمدیہ کے الہامات اور اس کی پیشگوئیاں تھیں جن سے اسلام کے مخالفوں پر حجت پوری ہوتی تھی۔ ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے تمام علماء نے بجز معدودے چندان الہامات کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ لیا تھا جو حقیقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ اُن میں اس عاجز کا اس قدرا کرام کیا گیا ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور بطور نمونہ اُن میں سے یہ ہیں: یا احمد بارک الله فيك الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر آباء هم | براہین احمدیہ کی تالیف کو بیس برس گزر گئے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پیشگوئیاں ہیں جو سال ہا سال کے بعد اب پوری ہو رہی ہیں جیسا کہ یہ پیشگوئی کہ ہم تمام دنیا میں تجھے شہرت دیں گے اور تیرا نام تمام دیار میں بلند کیا جائے گا اور کوئی نہیں ہو گا جو تیرے نام سے بے خبر رہے۔ یہ اُس وقت کی پیشگوئی ہے جبکہ اس قصبہ میں بھی سب لوگ مجھے نہیں جانتے تھے ۔ اور پھر دوسری پیشگوئی اسی کے ساتھ ہے اور وہ یہ کہ لوگ دُور دراز ملکوں سے تحف تحائف تجھے بھیجیں گے اور دور دور سے چل کر آئیں گے۔ یہ بھی اس زمانہ کی پیشگوئی ہے جبکہ دس کوس سے بھی میرے پاس کوئی نہیں آتا تھا اور نہ کوئی ایک پیسہ بطور تحفہ بھیجتا تھا۔ اب اس طرح پر یہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں کہ ہزار ہا کوس سے لوگ آتے ہیں اور ہزار ہاروپیہ سے مدد کرتے ہیں اور ایک دنیا میں خدا نے شہرت دے دی اور کوئی قوم بے خبر نہیں رہی۔ والحمد لله على ذالك منه ☆