اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 615

اَربعین — Page 348

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۴۸ اربعین نمبر ۲ (۲) دہریہ کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور زمین گناہ اور غفلت اور بے باکی سے بھر جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اور جلال اور عزت تقاضا فرماتی ہے کہ دوبارہ اپنے تئیں لوگوں پر ظاہر فرمادے سوجیسا کہ اس کی قدیم سے سنت ہے ہمارے اس زمانہ میں جو ایسے ہی حالات اور علامات اپنے اندر جمع رکھتا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر اس تجدید ایمان اور معرفت کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور اس کی تائید اور فضل سے میرے ہاتھ پر آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اُس کے ارادہ اور مصلحت کے موافق دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور غیب کی باتیں بتلائی جاتی ہیں اور حقائق اور معارف قرآنی بیان فرمائے جاتے اور شریعت کے معضلات و مشکلات حل کئے جاتے ہیں اور مجھے اُس خدائے کریم وعزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اس کے حکم سے کھڑا ہوا ہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کرلے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔ اُس نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر تجمیل نور کے لئے مامور فرمایا اور اس نے میری تصدیق کے لئے رمضان میں خسوف کسوف کیا اور زمین پر بہت سے کھلے کھلے نشان دکھلائے جو حق کے طالب کے لئے کافی تھے اور اس طرح اُس نے اپنی حجت پوری کر دی ۔ کوئی شخص واقعی طور پر میرے پر کوئی الزام نہیں لگا سکتا اور نہ میرے نشانوں پر کوئی جرح کر سکتا ہے کیونکہ وہ مجھ پر کوئی ایسی نکتہ چینی نہیں کر سکتا اور نہ میرے بعض آسمانی نشانوں پر کوئی ایسی حرف گیری کر سکتا ہے جو وہی حرف گیری انبیاء گذشتہ پر اور اُن کے بعض نشانوں پر دشمنوں نے نہیں کی جن کی حقیقت کو اُن نادان متعصبوں نے نہیں سمجھا۔ بھلا اگر میرے مخالفوں میں ایک ذرہ بھی سچائی ہے تو وہ آرام سے ایک مختصر مجلس چند شریف اور معزز انسانوں کی مقرر کر کے چند وہ باتیں میرے آگے پیش کریں جو اُن کے نزدیک