اَربعین — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۴۶ اربعین نمبر ا مقابلہ کر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اُتر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر غیب کی پوشیدہ باتیں اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں کوئی میری برابری کر سکے تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ اب کہاں ہیں وہ پادری صاحبان جو کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت سیدنا وسید الوری محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی یا اور کوئی امر خارق عادت ظہور میں نہیں آیا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین پر وہ ایک ہی انسان کامل گذرا ہے جس کی پیشگوئیاں اور دعائیں قبول ہونا اور دوسرے خوارق ظہور میں آنا ایک ایسا امر ہے جواب تک امت کے بچے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور وہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اگر انسان صرف ایسے مذہب کا پیرو ہو جس میں آسمانی روح کی کوئی ملاوٹ نہیں تو وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ مذہب وہی مذہب ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندگی کی روح اپنے اندر رکھتا ہو اور زندہ خدا سے ملاتا ہو۔ اور میں صرف یہی دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا مگر یا درکھو کہ تمام مخالفوں کے لئے یہ دروازہ بند ہے۔ اور اگر دروازہ بند نہیں ہے تو کوئی آسمانی نشانوں میں مجھ سے مقابلہ کرے۔ اور یا درکھیں کہ ہر گز نہیں کر سکیں گے۔ پس یہ اسلامی حقیت اور میری حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے ۔ ختم ہوا پہلا نمبر اربعین کا۔ والسلام على من اتبع الهدى۔ ۲۳ / جولائی ۱۹۰۰ء المشتهر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیاں مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیاں