انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 581

انوارالاسلام — Page 44

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۴ انوار الاسلام فتوح الغیب میں لکھتے ہیں کہ کبھی مردان خدا کو جو اس کے خاص بندے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک وعدہ ملتا ہے اور اس کا ایفا نہیں ہوتا۔ اور یہی بحث فیوض الحرمین میں شاہ ولی اللہ صاحب نے کی (۴۳) ہے اور نظیر کے طور پر انبیاء کے بعض واقعات لکھتے ہیں۔ آخر تصفیہ یوں کیا ہے کہ خدا تعالیٰ پر فرض نہیں کہ تمام شرائط اپنے وحی اور الہام کے شخص ملہم پر کھول دے بلکہ جہاں کوئی ابتلا منظور ہوتا ہے بعض شرائط کو مخفی رکھ لیتا ہے جس طرح حضرت یونس کے قصہ میں رکھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ حضرت یونس کی پیشگوئی ایک معرکہ کی پیشگوئی تھی مگر اللہ تعالی نے ایمان کی شرط کو حضرت یونس پر ظاہر نہ کیا جس سے ان کو بڑا ابتلا پیش آیا۔ اور اس ابتلا سے حضرت مسیح بھی باہر نہ رہے کیونکہ جس پیشگوئی سابقہ پر ان کی صحت نبوت کا مدار تھا وہ پیشگوئی اپنی ظاہری صورت کے ساتھ پوری نہ ہوئی۔ یعنی ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا۔ اور آخر حضرت مسیح نے تاویلات سے کام لیا مگر تاویلات میں نہایت مشکل یہ امر تھا کہ وہ تاویلات علماء یہود کی اجماع سے بالکل بر خلاف تھیں اور ایک بھی ان کے ساتھ متفق نہیں تھا۔ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ ایلیا سے مراد کی ہے اور ایلیا کے صفات بیچی میں اتر آئے ہیں گویا ایلیا ہی نازل ہو گیا ۔ مگر یہ تاویل نہایت سختی سے رد کی گئی اور حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ملحد قرار دیا گیا کہ پہلی کتابوں اور نصوص صریحہ کے الٹے معنے کرتا ہے۔ اسلئے ایک عیسائی یا ایک مسلمان کیلئے ادب سے دور ہے کہ اگر کسی پیشگوئی کو اپنی صورت پر پوری ہوتی نہ دیکھے تو فی الفور ملہم کو کاذب کہہ دے حضرت مسیح کی بعض پیشگوئیاں اپنے وقت پر بھی پوری نہیں ہوئیں یعنی وقت کوئی بتلایا گیا اور ظہور ان کا کسی اور وقت میں ہوا۔ جیسے دن سے مراد سال لیا گیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بعض وقت دن یا ہفتہ یا مہینہ سے خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک متناسب حصہ زمانہ کا مراد ہوتا ہے جس کے تمام اجزاء متشابہ اور یکساں ہوتے ہیں پھر جب دوسرا زمانہ آتا ہے۔ جو پہلے زمانہ سے امتیاز اور اختلاف رکھتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دوسرا دن یا دوسرا ہفتہ یا دوسرا مہینہ ہے مثلاً جیسا کہ دن سے مراد وہ وقت محدود ہے جو دو تغیرات کے بیچ میں ہے یعنی آفتاب کا طلوع اور آفتاب کا غروب ۔ ویسا ہی روحانی طور پر اس محدود وقت کا نام دن ہو گا جو دو روحانی تغیرات کے اندر واقع ہے جیسا کہ بدر کی فتح کے لئے ایک دن کا وعدہ دیا گیا اور لکھا گیا کہ صرف ایک دن کی میعاد ہے پھر فتح ہوگی ۔ حالانکہ اس دن سے مراد برس تھا اور دن سے مناسبت یہ تھی کہ یہ فتح بھی دو تغیروں کے اندر تھی ایک یہ تغیر عظیم کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم