انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 581

انوارالاسلام — Page 43

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۳ انوار الاسلام جگہ کلام الہی کافی ہے۔ اللہ جل شانۂ فرماتا ہے وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّدَ عَانَا لِجَنْبِةٍ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَابِما فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَانْ لَّمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرَّ مَّشَهُ كَذَلِكَ زُيْنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ے سورۃ یونس یعنی جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہماری جناب ۳۲) میں دعائیں کرنے لگتا ہے کروٹ کی حالت میں اور بیٹھ کر اور کھڑے ہو کر اور جب ہم اس دکھ کو اس سے دفع کر دیتے ہیں تو ایسا چلا جاتا ہے کہ گو یا نہ کبھی اس کو دکھ پہنچا اور نہ کبھی دعا کی ۔ پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحِ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفُ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أَحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الذِيْنَ لَبِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَتَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ فَلَمَّا أَنجُهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ سورۃ یونس۔ یعنی جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتی کے سواروں کو ایک خوش ہوا کے ساتھ لے کر کشتیاں چلتی ہیں اور وہ ان کشتیوں کے چلنے سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک تند ہوا چلنی شروع ہوتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موج آتی ہے اور ظن غالب یہ ہو جاتا ہے کہ بس اب ہم گھیرے گئے یعنی مارے گئے جب اس وقت اخلاص سے خدا تعالی کو یاد کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر اگر اب ہمیں نجات دے تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب خدا تعالیٰ ان کو نجات دیتا ہے تو پھر اسی ظلم اور فساد کی طرف رجوع کرتے ہیں جس پر پہلے جمے ہوئے تھے۔ اعتراض دوم ۔ آتھم صاحب پندرہ مہینہ میں نہیں مرے اس سے ثابت ہوا کہ میرزاغلام احمد قادیانی نے خدا پر جھوٹ باندھا۔ الجواب۔ کیا نعوذ باللہ یونس نبی نے بھی خدا پر جھوٹ باندھا تھا کہ اس کا وعدہ مقررہ مل گیا بلکہ اس وعدہ میں جو ہمارے الہام میں تھا صریح شروا تھی یعنی یہ کہ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے لیکن یونس کے وعدہ عذاب میں کوئی بھی شرط نہیں تھی بلکہ بغیر کسی شرط کے صرف یہ الفاظ تھے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ نے حضرت یونس کے ابتلا کے لئے اس شرط ایمان کو مخفی رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے حضرت یونس پر وہ ابتلا آیا جو قرآن اور احادیث میں درج ہے۔ اگر اس شرط پر حضرت یونس کو علم ہوتا تو وہ اس شرط کی تجسس کرتے ۔ اور خدا تعالیٰ نے بھی ان کو بذریعہ الہام مطلع نہیں کیا کیونکہ ابتلا منظور تھا۔ تب وہ اس ملک سے بھاگ گئے اور سمجھا کہ کفار تکذیب کریں گے اور ٹھٹھا کریں گے۔ اس قصہ سے علماء کہار نے بہت کچھ استنباط کیا ہے۔ چنانچہ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب یونس : ۱۳ یونس : ۲۴۲۳