انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 581

انوارالاسلام — Page 38

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۸ انوار الاسلام اب خوب غور کر کے دیکھو کہ مباہلہ کی لعنت کس پر پڑی منہ کالا کس کا ہوا آپ کا یا کسی اور کا۔ اور اگر یہ کہو کہ اگر چہ تھم صاحب کے باقی فریق پر موت، ذلت دیکھ نازل ہو گئے مگر آتھم کی نسبت ابھی پورا فیصلہ نہیں ہوا تو خیر اسی قدر بالفعل مان لو کہ لعنت کے چار حصوں میں سے تین حصے تو آپ پر پڑ گئے اور ایک حصہ ابھی کامل طور پر ظہور میں نہیں آیا آتھم اگر چہ پندرہ مہینہ تک ہم اور غم کے ہادیہ میں تو رہا مگر بھی چونکہ پورا ہاو ہی نہیں دیکھا اس لئے اس کے حساب میں سے صرف آدھی لعنت آپ پر پڑی لیکن غور سے دیکھو تو یہ بھی ساری ہی پڑ گئی کیونکہ اس فیصلہ کے بعد جو اؤل ہم نے ایک ہزار روپیہ اور پھر دو ہزار بلا توقف دینا قبول کیا مگر آتھم صاحب نے اس طرف رخ نہ کیا تو صاف طور پر کھل گیا کہ آتھم صاحب اپنے بیان میں جھوٹے ہیں اور ظاہر ہو گیا کہ در حقیقت آتھم صاحب نے خوف کے دنوں میں در پر وہ اسلام کی طرف رجوع کیا تھا پس اس سے بتمام تر صفائی ثابت ہے کہ ہماری فتح ہوئی اور دین اسلام غالب رہا پھر بھی اگر کوئی عیسائیوں کی فتح کا گیت گاتا رہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ آتھم کو تم کھانے پر مستعد کرے اور ہم سے تین ہزار روپیہ دلا وے اور میعاد گذرنے کے بعد ہم کو بے شک لعنتی منہ کالا و جال کہے۔ اگر ہم نے اس میں افترا کیا ہے تو بے شک ہمارے آگے آ جائے گا اور ہماری ذلت ظاہر ہوگی لیکن اے میاں عبد الحق اگر اس تقریر کو سن کر چپ ہو جاؤ تو جتلا کہ کچی لعنت کس پر پڑی اور واقعی طور پر منہ کس کا کالا ہوا اور یہ بھی یاد رکھو کہ ہمیں ان کے لئے جو عیسائیوں کو غالب قرار دیتے ہیں اور اس پیشگوئی کو جھوٹی سمجھتے ہیں دل کی آہ سے یہ کہنا پڑا کہ اگر وہ ولد الحرام نہیں ہیں اور حلال زادہ ہیں تو اس مضمون کو پڑھتے ہی اس فیصلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں پس اگر ان کے کہنے سے آتھم نے قسم کھالی اور میعاد مقررہ تک بیچ گیا تو بے شک ہمارا ہی منہ کالا ہوا اور ہم ہی لعنتی ٹھہرے اور سارے بقیہ حاشیہ کے فضل سے جئیں گے جب تک دینی خدمت کا کام پورا نہ کر لیں تو پھر اگر عبداللہ اعظم موت سے ڈر کر قسم کھانے سے گریز کرے تو صاف طور پر ثابت ہوگا کہ اس کو اس مصنوعی خدا پر ایمان نہیں جس کے فضل کا ذکر اشتہار میں کیا ہے مرنے کا قانون قدرت ہر ایک کے لئے مساوی ہے جیسا آتھم صاحب اس کے نیچے ہیں ہم بھی اس سے باہر ہیں اور جیسا کہ اس عالم کون وفساد کے اسباب ان کی زندگی پر اثر کر رہے ہیں ویسا ہی ہماری زندگی پر بھی مؤثر ہیں اور ہم حلفاً کہتے ہیں اور زور سے کہتے ہیں کہ اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو ہمارا سچا خدا ایک سال تک ان کو موت دے گا اور ہمیں موت سے بچائے گا اگر اس مصنوعی خدا پر بھروسہ ہے جو مریم کے پیٹ سے نکلا تو سب مل کر اس سے دعا کروتا اس مباہلہ کے بعد مسٹر آتھم صاحب ایک سال تک جیتے رہیں اور اگر تم کھانے سے انہوں نے اعراض کیا تو ہماری فتح یابی پرمہر لگادیں گے زیادہ کیا لکھیں۔ والسلام على من اتبع الهدى منه