انوارالاسلام — Page 37
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۷ انوار الاسلام نہ مرے۔ تو اس کا یہی جواب ہے کہ الہامی شرط کی وجہ سے اس کی موت میں تاخیر ہوگئی اس کے دل نے عظمت اسلام کو اس خوف کے وقت میں قبول کر لیا۔ اس لئے الہامی شرط سے فائدہ لینا ان کا حق ہو گیا کیا کسی عبارت میں یہ لکھا ہے کہ الہامی شرط منسوخ ہو گئی یا وہ قابل اعتبار نہ رہی ۔ جب ایک مرتبہ شرط قائم ہو چکی تو اس کا عام عبارتوں میں لحاظ نہ رکھنا ایک گدھے کا کام ہے نہ انسان کا ۔ ہم نے حق کی طرف رجوع دلانے کے لئے اور حق کی فتح ظاہر کرنے کی غرض سے اور پوشیدہ حقیقت کو کھولنے کے ارادہ سے ایک نہایت صاف بات کہہ دی کہ اگر آتھم صاحب نے ان خوف کے دنوں (۳۶) میں عظمت اسلام کو قبول نہیں کیا اور ہمارا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ قبول کر لیا ہے تو وہ ہم سے دو ہزار روپیہ بلکہ تین ہزار روپیہ لیں اور یہی اقرار کر دیں کہ میں ان خوف کے دنوں میں ٹیسٹی کو خدا جاننے میں پکا رہا اور عظمت اسلام کو قبول نہ کیا اور نہ اسلامی پیشگوئی کو ایک دن بھی سچا سمجھا لیکن اگر اقرار نہ کریں یا اقرار کے بعد مدت مقررہ میں اس دنیا سے گذر جائیں تو ہماری کامل فتح ہے۔ کا حاشیہ اگر اس جگہ کوئی نادان عیسائی سوال کرے کہ اب یہ مباحثہ درست نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ اب کی دفعہ مسٹر عبد اللہ آتھم اتفاقی طور پر مر ہی جائے تو اس کے جواب میں ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ مارنے والا کون ہوگا کیا ان کا خداوند مسیح یا کوئی اور یا خود بخود و بغیر کسی کے مارنے کے مرجائے گا پس اگر در حقیقت ان کے مصنوعی خداوند مسیح کے ہاتھ میں ہی موت اور حیات ہے تو وہ ایسا کیوں کرنے لگا کہ عبد اللہ آتھم کو مار کر اپنے تمام پرستاروں کا جھوٹا ہونا ثابت کرے کیا وہ جو اپنے اختیار اور اقتدار سے مردوں کو زندہ کرتا تھا اور بقول تمہارے زمین و آسمان کا خالق ہے۔ وہ ایک اور برس مسٹر عبد اللہ آتھم کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ بہتیرے سو سو برس زندہ رہتے ہیں مگر عبد اللہ آتھم کے جیسا کہ نورافشاں میں لکھا گیا ہے صرف اب تک ۶۴ برس کی عمر ہے جو میری عمر سے صرف چھ سات برس ہی زیادہ ہے ۔ ہاں اگر مسیح کی قدرت پر اب بھروسہ نہیں رہا اور پہلے بھروسہ تھا اور یا اب وہ مر گیا ہے اور پہلے زندہ تھا تو اس کا صاف اقرار کرنا چاہیے تاہم سال کی مدت میں کچھ تخفیف کر دیں کیا اشتہار میں نہیں لکھا کہ مسٹر آتھم خداوند مسیح کے فضل اور قدرت سے بچ گیا تو اب عین موقعہ پر جو جھوٹے اور کچے کے لئے آخری فیصلہ ہے وہ خداوند مسیح کیوں فضل نہیں کرے گا اور اب اس کی قدرت اور فضل کو کون چھین لے جائے گا۔ اور جس حالت میں ہم اپنے بچے اور کامل خدا پر توکل کر کے کہتے ہیں کہ ہم بغیر الہی کام پورا کرنے کے مرہی نہیں سکتے اور اگر چہ عمر ساٹھ تک پہنچ گئی لیکن ہم اس