انوارالاسلام — Page 31
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱ انوار الاسلام بلکہ برابر سخت دل اور دشمن اسلام رہا اور مسیح کو برابر خدا ہی کہتا رہا۔ پھر اگر ہم اسی وقت بلا توقف دو ہزار روپیہ نہ دیں تو ہم پر لعنت اور ہم جھوٹے اور ہمارا الہام جھوٹا۔ اور اگر عبد اللہ آ تقسم قسم نہ کھائے یا قسم کی سزا میعاد کے اندر نہ دیکھ لے تو ہم بچے اور ہمارا الہام سچا۔ پھر بھی اگر کوئی تحکم سے ہماری تکذیب کرے اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق سچائی پر پردہ ڈالنا چاہے تو بے شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہوگا کہ خواہ نخواہ حق سے رو گردان ہوتا ہے اور اپنی شیطنت سے کوشش کرتا ہے کہ سچے جھوٹے ہو جائیں۔ اب اس سے زیادہ صاف اور کون فیصلہ ہوگا کہ ہم دو کلموں کے مول میں خود امرت سر میں (۳۰) جا کر دو ہزار روپیہ دیتے ہیں۔ مسٹر عبد اللہ آتھم اگر در حقیقت مجھے کا ذب سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ ایک ذرہ بھی اس نے اسلامی عظمت کی طرف رجوع نہیں کی تو وہ ضرور بلا توقف عبارت مذکورہ بالا کے موافق اقرار کر دے گا کیونکہ اب تو وہ اپنے تجربہ سے جان چکا کہ میں جھوٹا ہوں اور مسیح کی حفاظت کو اس نے مشاہدہ کر لیا پھر اس مقابلہ سے اس کو کیا خوف ہے کیا پہلے پندرہ مہینوں میں مسیح زندہ تھا اور مسٹر عبد اللہ آتھم کی حفاظت کر سکتا تھا اور اب مر گیا ہے اس لئے نہیں کر سکتا جبکہ عیسائیوں نے اپنے اشتہار میں یہ کہہ کے اعلان دیا ہے کہ خداوند مسیح نے مسٹر عبد اللہ آتھم کی جان بچائی تو پھر اب بھی خداوند مسیح جان بچائے گا۔ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اب مسیح کے خداوند قادر ہونے کی نسبت مسٹر عبد اللہ آتھم کو کچھ شک اور تر در پیدا ہو جائے اور پہلے وہ شک نہ ہو بلکہ اب تو بہت یقین چاہیے کیونکہ اس کی خداوندی اور قدرت کا تجربہ ہو چکا اور نیز ہمارے جھوٹ کا تجربہ لیکن یا درکھو کہ مسٹر عبد اللہ آتھم اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ یہ باتیں سب جھوٹ ہیں کہ اس کو مسیح نے بچایا جو خود مر چکا وہ کس کو بچا سکتا ہے اور جو مر گیا وہ قادر کیونکر اور خداوند کیسا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بچے اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا۔ اگر اب نا دان عیسائیوں کی تحریک سے بے باک ہو جائے گا تو پھر اس کامل خدا کی طرف سے بے باکی کا مزہ چکھے گا۔ غرض اب ہم نے فیصلہ کی صاف صاف راہ بتا دی اور جھوٹے بچے کیلئے ایک معیار پیش کر دیا۔ اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم اور حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔ پس حلال زادہ بننے کیلئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور