انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 581

انوارالاسلام — Page xxiii

لئے کیں ذکر کر کے فرماتے ہیں:۔’’اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اِس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی دانوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر ہیں۔‘‘ (ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ۳۲۰) پھر اپنی تحقیق اور عربی زبان کے مقابل پر دوسری زبانوں کا ناقص ہونا بیان کر کے فرماتے ہیں:۔’’ہم نے زبان عربی کی فضیلت اور کمال اور فوق الالسنہ ہونے کے دلائل اپنی اس کتاب میں مبسوط طور پر لکھ دیئے ہیں جو بتفصیل ذیل ہیں۔(۱) عربی کی مفردات کا نظام کامل ہے (۲) عربی اعلیٰ درجہ کی وجوہِ تسمیہ پر مشتمل ہے جو فوق العادت ہیں۔(۳) عربی کا سلسلہ اطراد مواد اتم اور اکمل ہے (۴) عربی تراکیب میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہیں۔(۵) عربی زبان انسانی ضمائر کا پورا نقشہ کھینچنے کے لئے پوری پوری طاقت اپنے اندر رکھتی ہے۔اب ہریک کو اختیار ہے کہ ہماری کتاب کے چھپنے کے بعد اگر ممکن ہو تو یہ کمالات سنسکرت یا کسی اَور زبان میں ثابت کرے۔۔۔۔۔۔ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپے کا انعامی اشتہار شائع کر دیا ہے۔۔۔فتحیابی کی حالت میں بغیر حرج کے وہ روپیہ ان کو وصول ہو جائے گا۔‘‘ (ضیاء الحق۔رُوحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۳۲۱ ، ۳۲۲) اِس تحقیق سے کہ عربی زبان اُمّ الالسنہ ہے آپؑ نے اسلام کی عالمگیر فتح کی بنیاد رکھ دی۔کیونکہ عربی زبان کے اُمّ الالسنہ اور الہامی زبان ثابت ہونے سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام کتابوں میں سے جو مختلف زبانوں میں مخصوص قوموں کی اصلاح کے لئے انبیاء پر نازل ہوئیں۔اعلیٰ اور ارفع ،اتم اور اکمل اور خاتم الکتب اور اُمّ الکتب قرآن مجید ہے اور رسولوں میں سے خاتم النّبیین اور خاتم الرسل حضرت سیّدنا محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ خیال تھا کہ یہ کتاب دسمبر ۱۸۹۵ء میں شائع ہو جائے گی