انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 581

انوارالاسلام — Page 120

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲۰ انوار الاسلام صدقات سے باتفاق جمیع انبیاء علیہم السلام ثابت ہے پس ان تاریخوں کا ملنا بوجہ اولی ثابت ہوا اور اس سے انکار کرنا صرف سفیہ اور نادان کا کام ہے نہ کسی صاحب بصیرت کا۔ اور صاحب تفسیر کبیر اپنی تفسیر کے صفحہ ۱۶۴ میں لکھتے ہیں ان ذنبــه یـعـنـى ذنــب يونس كان لان الله تعالى وعده انزال الاهلاك بقومه الذين كذبوه فظن انــه نـازل لا محالة فلاجل هذا الظن لم يصبر على دعائهم فكان الواجب عليه ان يستمر على الدعاء لجواز ان لا يهلكهم الله بالعذاب یعنی یونس کا یہ گناہ تھا کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ملا تھا کہ اس کی قوم پر ہلاکت نازل ہوگی کیونکہ انہوں نے تکذیب کی پس یونس نے سمجھ لیا کہ یہ عذاب موت قطعی اور اٹل ۱۴ ہے اور ضرور نازل ہوگا اسی ظن سے وہ دعا ہدایت پر صبر نہ کر سکا اور واجب تھا کہ دعا ہدایت کی کئے جاتا کیونکہ جائز تھا کہ خدا دعاء ہدایت قبول کر لے اور ہلاک نہ کرے۔ اب بولو شیخ جی کیسی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ یونس نبی وعدہ اہلاک کو قطعی سمجھتا تھا اور یہی اس کے ابتلا کا موجب ہوا کہ تاریخ موت ٹل گئی ۔ اور اگر اس پر کفایت نہیں تو دیکھو امام سیوطی کی تفسیر درمنثو رسورہ انبیاء قال اخرج ابن ابی حاتم عن ابن عباس قال لما دعا يونس على قومه اوحى الله اليه ان العذاب يصبحهم۔۔۔۔۔ فلما رأوه جاروا الى الله و بكى النساء والولدان ورغت الابل وفصلا نها وخارت البقر وعـجـاجيلها ولغت الغنم و سخالها فرحمهم الله وصرف ذلك العذاب عنهم وغضب يونس وقال كذبت فهو قوله اذ ذهب مغاضبا یعنی ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جبکہ یونس نے اپنی قوم پر بددعا کی سو خدا تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ صبح ہوتے ہی عذاب نازل ہوگا پس جبکہ