انوارالاسلام — Page 114
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۴ انوار الاسلام ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کے قوی اثر نشان کے طور پر ضرور فریق مخالف پر پڑے اور جیسا کہ شکست خوردہ لوگوں کا حال ہوتا ہے یہی برا حال اس جنگ مقدس میں ان کو پیش آیا اور چاروں صورتیں ذلت اور تباہی کی ان کو پیش آگئیں ۔ اور ہنوز بس نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک اپنے قومی ہاتھ کو نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کروں ۔ ہاں اس نے اپنی اس عادت اور سنت کے موافق جو اس کی پاک کتابوں میں مندرج ہے ۔ آتھم صاحب کی نسبت تا خیر ڈال دی کیونکہ مجرموں کے لئے خدا کی کتابوں میں یہ ازلی وعدہ ہے جس کا تخلف روا نہیں کہ خوفناک ہونے کی حالت میں ان کو کسی قدر مہلت دی جاتی ہے اور پھر اصرار کے بعد پکڑے جاتے ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی پاک کتابوں کے وعدہ کا لحاظ رکھتا کیونکہ اس پر تخلف وعدہ جائز نہیں لیکن جو الہامی عبارات میں تاریخیں مقرر ہیں وہ کبھی ان سنت اللہ کے وعدوں سے جو قرآن میں درج ہیں بر خلاف واقع نہیں ہو سکتیں کیونکہ کوئی الہام وحی الہی کے قرار داده شرائط سے باہر نہیں ہو سکتا ۔ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیو یں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور ا گرفتم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا لیکن ہم اس موخر الذکرشق کی نسبت ابھی صرف اتنا کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشان کو ایک عجیب طور پر دکھلانا ارادہ کیا ہے جس سے دنیا کی آنکھ کھلے اور تاریکی دور ہو اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں مگر اس وقت اور گھڑی کا علم جب دیا جائے گا تب