انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 581

انوارالاسلام — Page 111

روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام جو کروڑ ہا روپیہ کی مالی عزت رکھتا ہے اور صد ہا روپیہ روز صدقہ کے طور پر دیتا ہے اگر کسی پر ایک پیسہ کا دعویٰ کرے تو گو وہ کیسا ہی متمول اور مخیر اور سخی سمجھا گیا ہے مگر بغیر کامل شہادت کے ڈگری نہیں ہوسکتی۔ تو اب بتلاؤ کہ آتھم صاحب کا یک طرفہ بیان جوصرف دعوی کے طور پر اغراض نفسانیہ سے بھرا ہوا اور روئیداد موجودہ کے مخالف ہے کیونکر قبول کیا جائے اور کون سی عدالت اس پر اعتماد کر سکتی ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ صرف ہمارے الہام پر مدار نہیں رہا بلکہ آتھم صاحب نے خودموت کے خوف کا اقرار اخباروں میں چھپوا دیا اور جابجا خطوط میں اقرار کیا۔ اب یہ بوجھ آتھم صاحب کی گردن پر ہے کہ اپنے اقرار کو بے ثبوت نہ چھوڑیں بلکہ قسم کے طریق سے جو ایک سہل طریق ہے اور جو ہمارے نزدیک قطعی اور یقینی ہے ہمیں مطمئن کر دیں کہ وہ (9) پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرے بلکہ وہ فی الحقیقت ہمیں ایک خونی انسان یقین کرتے اور ہماری تلواروں کی چمک دیکھتے تھے اور ہم انہیں کچھ بھی تکلیف نہیں دیتے بلکہ اس قسم پر چار ہزار روپیہ بشرائط اشتہار ۹ ستمبر ۱۸۹۴ ء ۲۰۰ ستمبر ۱۸۹۴ء ان کی نذر کریں گے اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا یہ عذر کہ مسیحیوں کو قسم کھانے کی ممانعت ہے سخت ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔ کیا پطرس اور پولس اور بہت سے عیسائی راست باز جو اول زمانہ میں گذر چکے مسیحی نہیں تھے یا وہ بے ایمان تھے کیا آتھم صاحب اس گورنمنٹ میں کسی ایک بقیہ نوٹ : یعنی قسم نہ کھاوے پھر خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو صرف یہاں تک تو محدود نہیں رکھا اور اس کے کاموں میں عمیق حکمتیں اور مصالح ہیں اور انجام نمایاں فتح ہے پس ان پر افسوس جو جلد بازی سے اپنے ایمان اور عاقبت کو برباد کر رہے ہیں اور جس قدر ایک کسان مولی گاجر کا بیج بو کر ایک وقت تک مولیوں گا جروں کی انتظار کرتا ہے ان لوگوں میں اتنا بھی صبر نہیں ۔ منہ نوٹ: یہ چار ہزار روپیہ آتھم صاحب کی درخواست آنے کے بعد پانچ ہفتہ میں ان کے پاس حاضر کیا جائے گا ۔ منہ