انوارالاسلام — Page 104
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۰۴ انوار الاسلام ☆ صاحب پر واجب تھا کہ اس الزام کو قسم کھانے سے اپنے سر پر سے اٹھا لیتے لیکن عیسائیت کی قدیم بد دیانتی نے ان کو اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ جھوٹا بہانہ پیش کر دیا کہ قسم کھانا ہمارے مذہب میں منع ہے گویا ایسی تسلی بخش شہادت جو قسم کے ذریعہ سے حاصل ہوتی اور خصومت کو قطع کرتی اور الزام سے بری کرتی اور امن اور آرام کا موجب ہوتی ہے اور جو حق کے ظاہر کرنے کا انتہائی ذریعہ اور مجازی حکومتوں کے سلسلہ میں آسمانی عدالت کا رعب یاد دلاتی ہے اور جھوٹے کا منہ بند کرتی ہے وہ انجیلی تعلیم کے رو سے حرام ہے جس سے عیسائی عدالتوں کو پر ہیز کرنا چاہیئے ۔ لیکن ہر یک دا نا سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل حضرت عیسی پر بہتان ہے حضرت عیسی نے کبھی گواہی اور گواہی کے لوازموں کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہا حضرت عیسی خوب جانتے تھے کہ قسم کھانا شہادت کی روح ہے اور جو شہادت بغیر قسم ہے وہ مدعیا نہ بیان ہے نہ شہادت ، پھر وہ ایسی ضروری قسموں کو جن پر نظام تحقیقات کا ایک بھارا مدار ہے کیونکر بند کر سکتے تھے۔ الہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور انسانی کانشنس خود گواہی دے رہا ہے کہ خصومتوں کے قطع کے لئے انتہائی حد قسم ہی ہے اور ایک راستباز انسان جب کسی الزام اور شبہ کے نیچے آ جاتا ہے اور کوئی انسانی گواہی قابل اطمینان پیش نہیں کر سکتا تو بالطبع وہ خدا تعالیٰ کی نوٹ : کوئی سچی اور حقانی تعلیم مجرموں کو پناہ نہیں دے سکتی پس جبکہ آتھم صاحب نے اس ڈر کا اقرار کر کے جس کو وہ کسی طرح سے چھپا نہیں سکتے یہ مجرمانہ عذر پیش کیا کہ یہ عاجز کئی دفعہ اقدام قتل کا مرتکب ہوا تھا اس لئے دل پر موت کا ڈر غالب ہو گیا تو کیا انجیل آتھم صاحب کو اس مطالبہ سے بچالے گی کہ کیوں انہوں نے بے جا الزام لگایا۔ پھر کیونکر انجیل ان کو ایسی قسم سے روک سکتی ہے جس کی ان کی بر بیت ہو ۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے جس سے “ہونا چاہیے۔(ناشر)