انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 581

انوارالاسلام — Page 95

روحانی خزائن جلد ۹ ۹۵ انوار الاسلام بیان ہے جس میں آپ نے جھوٹ بولنے اور حق پوشی سے ذرا خوف نہ کیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ بیان بطور بیان شاہد قسم کے ساتھ مؤکد نہیں بلکہ جاہلوں کے لئے ایک طفل تسلی ہے پھر آپ زبان دبا کر یہ بھی اس میں اشارہ کرتے ہیں کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ کچھ بے ہودگی کی اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ قریب ستر برس کی میری عمر ہے اور پہلے اس سے اسی سال کے کسی پر چہ نورافشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر چونسٹھ برس کے قریب ہے پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں کہ شاید میں فوت ہو جاؤں مگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز ارادہ قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہوسکتا جبکہ میں بھی قسم کھا چکا اور آپ بھی کھا ئیں گے تو جو شخص ہم دونوں میں جھوٹا ہوگا وہ دنیا پر اثر ہدایت ڈالنے کے (۲۰) لئے اس جہان سے اٹھا لیا جائے گا۔ اگر آپ چونسٹھ برس کے ہیں تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ کے ہو چکی دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک اسلام کا اور ایک عیسائیوں کا پس جو سچا اور قادر خدا ہو گا وہ ضرور اپنے بندہ کو بچالے گا۔ اگر آپ کی نظر میں کچھ عزت اس مسیح کی ہے جس نے مریم صدیقہ سے تولد پایا تو اس عزت کی سفارش پیش کر کے پھر میں آپ کو خدا وند قا در مطلق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اس اشتہار کے منشاء کے موافق عام مجلس میں قسم مؤکد بعذ اب موت کھاویں یعنی یہ کہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں نے پیشگوئی کی میعاد میں اسلامی عظمت اور صداقت کا کچھ اثر اپنے دل پر نہیں ڈالا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی حقانی بیبت میرے دل پر طاری ہوئی اور نہ میرے دل نے اسلام کو حقانی مذہب خیال کیا بلکہ میں در حقیقت مسیح کی ابنیت اور الوہیت اور کفارہ