انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 581

انوارالاسلام — Page 89

روحانی خزائن جلد ۹ ۸۹ انوار الاسلام ایام پیشگوئی میں ڈرتے رہے پس ان کا یہ دعویٰ کہ وہ عظمت حق کے خوف سے نہیں ڈرے بلکہ قتل کئے جانے سے ڈرے اس دعویٰ کا بار ثبوت قانونا و انصافا انہیں کے ذمہ تھا جس سے وہ سبکدوش نہیں ہو سکے لہذا ہمارے لئے یہ قانونی حق حاصل ہے کہ ایک قابل اطمینان ثبوت کے لئے ان کو قسم پر مجبور کریں اور ان پر قانوناً واجب ہے کہ وہ اس طریق فیصلہ سے گریز نہ کریں جس طریق سے پورے طور پر ان کے سر پر سے ہمارا شبہ اور الزام اٹھ جائے ۔ یہی وہ طریق ہے جس کو قانون و انصاف چاہتا ہے۔ اب تم خواہ کسی وکیل یا بیرسٹر یا حج کو بھی پوچھ کر دیکھ لو ہاں اگر آتھم صاحب اب حسب تجویز قرار دادہ ہماری کے قسم کھا لیں تو بلا شبہ ان کی صفائی ہو جائے گی اور اگر قسم کے ضرر سے بچ گئے تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ واقعی طور پر اسلامی پیشگوئی سے ذرہ نہیں ڈرے بلکہ وہ اس لئے خائف رہے کہ ان کو یہ پرانا تجربہ تھا کہ یہ عاجز خونی آدمی ہے ہمیشہ ناحق کے خون کرتا رہا ہے لہذا اب ان کا بھی ضرور خون کر دے گا۔ قوله : اس قسم کی تحدی اور پھر خفی طریقوں سے اس کا ثبوت ۔ اقول : عقلمند کے لئے یہ خفی طریقہ نہیں جس حالت میں پندرہ مہینہ تک آتھم صاحب کے خوف کے قصے اور ان کی سراسیمگی کی حالت دنیا میں مشہور ہوگئی پھر اب تک وہ زبان سے بھی رو رو کر اقرار کرتے ہیں کہ میں ضرور ڈرتا رہا مگر تلواروں کا خوف تھا۔ گویا کسی راجہ یا نواب یا کسی ڈاکو نے ان کو قتل کی دھمکی دی تھی اور جب کہا جاتا ہے کہ یہ کمال درجہ کا خوف جو آپ سے ظاہر ہوا اگر یہ تلوار کا خوف تھا سچے دین کی عظمت اور قہر الہی کا خوف نہیں تھا تو آپ قسم کھا لیں کیونکہ اب آپ کے یہ دل کا بھید بجر قسم کے فیصلہ نہیں پاسکتا تو آپ قسم کھانے سے کنارہ کر رہے ہیں نہ ہزار روپیہ لیں نہ دو ہزار روپیہ اب اسی غرض سے تین ہزار روپیہ کا اشتہار جاری کیا گیا مگرفتم کی اب بھی امید