انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 581

انوارالاسلام — Page 88

روحانی خزائن جلد ۹ ۸۸ انوار الاسلام یاد کر کے اب بھی وہ زار زار روتے ہیں تو ہمارا یہ حق ہے کہ ہم ان کی اس تاویل کو لا نسلم کی مد میں رکھ کر ان سے وہ ثبوت مانگیں جو موجب تسلی ہو کیونکہ جب کہ وہ نفس خوف کے خود اقراری ہیں تو ہمیں انصاف و قا نو نا حق پہنچتا ہے کہ ان سے وہ قسم غلیظ لیں جس کے ذریعہ سے وہ حق بیان کر سکیں اور بغیر قسم کے ان کے بیانات لغو ہیں کیونکہ وہ باتیں بحیثیت مدعا علیہ کے ہیں۔ قوله : آتھم صاحب کے ذمہ اس طرح پر قسم کھانا انصا ف ضروری نہیں۔ اقول : جبکہ آتھم صاحب کے وہ حالات جو پیشگوئی کی میعاد میں ان پر وارد ہوئے جنہوں نے ان کو مارے خوف کے دیوانہ سا بنا دیا تھا بلند آواز سے پکار رہے ہیں کہ ایک ڈرانے والا اثر ضرور ان کے دل پر وارد ہوا تھا اور پھر بعد اس کے ان کی زبان کا اقرار بھی نورافشاں میں چھپ گیا کہ وہ ضرور اس عرصہ میں خوف اور ڈر کی حالت میں رہے اور جو ڈر کے وجوہ انہوں نے بیان کئے ہیں وہ ایسا دعوی ہے جس کو وہ ثابت نہیں کر سکے ۔ پس اس صورت میں وہ خود انصافا و قا نو نا اس مطالبہ کے نیچے آ گئے کہ وہ اس الزام سے قسم کے ساتھ اپنی بریت ظاہر کریں جو خود ان کے افعال اور ان کے بیان سے شبہ کے طور پر ان کے عاید حال ہوتا ہے پس ان کی بریت اس شبہ سے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا اسی میں ہے کہ وہ ایسی قسم جو مجھ مدعی کو مطمئن کرسکتی ہو یعنی میرے منشا کے موافق ہو جلسہ عام میں کھا لیں اور یا در ہے کہ در حقیقت ان کے ایسے افعال سے جو ان کی خوفناک حالت پر اور ان کے ڈر سے بھرے ہوئے دل پر پندرہ مہینہ تک گواہی دیتے رہے اور ان کے ایسے بیان سے جو رو رو کر اس زمانہ کی نسبت بتلایا جونورافشاں ماہ ستمبر ۱۸۹۴ء میں چھپ گیا۔ یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ضرور