انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 581

انوارالاسلام — Page 87

روحانی خزائن جلد ۹ ۸۷ انوار الاسلام ضرور تو حلال زادہ ہے ہماری اس شرط پر کہ کوئی آتھم کو قسم دینے سے پہلے تکذیب نہ کرے خوب ہی تو نے عمل کیا آفرین آفرین ۔ سچ کہہ کہ یہ ڈھکوسلا اب بنالیا یا الہام میں پہلے سے شرط تھی اور کیا اس شرط کے تصفیہ کے لئے ضرور نہ تھا کہ آتھم قسم کھا لیتا۔ کیا قسم کے دو حرف منہ پر لانا اور تین ہزار روپیہ نقد لینا ایک سچے آدمی کے لئے کچھ مشکل ہے!!! (۱۳) بعض شبهات ایسے لوگوں کی طرف سے ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں لیکن باعث کمی معلومات بے خبر ہیں پس ہم اس جگہ ان کے اوہام کو بھی بطور قولہ اقول دفع کر دیتے ہیں ۔ قوله : آتھم اسلام کی طرف رجوع کرنے سے صریح اپنے خط مطبوعہ میں انکار کرتا ہے صرف قسم کھا لینا اور روپے لینا باقی رہا ہے۔ اقول : یہ انکار برنگ شہادت انکار نہیں بلکہ ایسے طور کا انکار ہے جیسے بد معاملہ مدعا علیہم کیا کرتے ہیں پس ایسا انکار اس دعو۔ دعوے کو توڑ نہیں سکتا جو خود آتھم صاحب کی حالی شہادت سے ثابت ہے۔ کیا اس میں کچھ شک ہے کہ آتھم صاحب نے اپنی سراسیمگی اور دن رات کی پریشانی اور گریہ و بکا اور ہر وقت مغموم اور اندوہناک رہنے سے دکھا دیا کہ وہ ضرور اس پیشگوئی سے متاثر اور خائف رہے ہیں بلکہ آتھم صاحب نے خود رو رو کر مجلسوں میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کے بعد ضرورموت سے ڈرتے رہے۔ چنانچہ ابھی ستمبر ۱۸۹۴ء کے مہینہ میں وہ اقرار نورافشاں میں چھپ بھی گیا ہے جس کی اب وہ یہ تاویل کرتے ہیں کہ پیشگوئی سے ہمیں خوف نہیں تھا اور نہ اسلامی عظمت کا اثر تھا بلکہ یہ خوف تھا کہ کوئی مجھ کو مار نہ دیوے لیکن انہوں نے خوف کا صریح اقرار کر کے پھر اس کا کچھ ثبوت نہیں دیا کہ ایسا خوف جس نے ان کو حیوانوں کی طرح بنا رکھا تھا کیا سارا مدار اس کا صرف اس وہم پر تھا کہ کوئی مجھ کو قتل نہ کر دیوے پس جبکہ ہماری پیشگوئی کے بعد یہ سارا خوف تھا جس کے وہ خود اقراری ہیں جس کو والد