انوارالاسلام — Page 85
روحانی خزائن جلد ۹ ۸۵ انوار الاسلام کو غلط سمجھنا کسی طرح عمل خیر نہیں بن سکتا یہ دجال قادیانی کا ہی کام ہے کہ اس کا نام رجوع بحق رکھے۔ الجواب: اے احمق دل کے اندھے دجال تو تو ہی ہے جو قرآن کریم کے برخلاف بیان کرتا ہے اور نیز اپنی قدیم بے ایمانی سے ہمارے بیان کو محرف کر کے لکھتا ہے ہم نے کب اور کس وقت کہا جو ایسا رجوع جو خوف کے وقت میں ہو اور پھر انسان اس سے پھر جائے نجات اخروی کیلئے مفید ہے بلکہ ہم تو بار بار کہتے ہیں کہ ایسا جوع نجات اخروی کے لئے ہرگز مفید نہیں اور ہم نے کب آتھم نجاست خوار شرک کو بہشتی قرار دیا ہے یہ تو سراسر تیر ہی افترا اور بے ایمانی ہے ہم نے تو قرآن کریم کی تعلیم کے موافق صرف یہ بیان کیا تھا کہ کوئی کافر اور فاسق جب عذاب کے اندیشہ سے عظمت اور صداقت اسلام کا خوف اپنے دل میں ڈال لے اور اپنی شوخیوں اور بے باکیوں کی کسی قدر رجوع کے ساتھ اصلاح کرلے تو خدا تعالیٰ وعدہ عذاب دنیوی میں تاخیر ڈال دیتا ہے یہی تعلیم سارے قرآن میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے رَبَّنَا اكْشِفَ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ لے ۔۔۔ اور پھر جواب میں فرماتا ہے إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ کے سورۃ الدخان الجز و نمبر ۲۵ یعنی کافر عذاب کے وقت کہیں گے کہ اے خدا ہم سے عذاب دفع کر کہ ہم ایمان لائے اور ہم تھوڑا سا یا تھوڑی مدت تک عذاب دور کر دیں گے مگر تم اے کا فرو پھر کفر کی طرف عود کرو گے۔ پس ان آیات سے اور ایسا ہی ان آیتوں سے جن میں قریب الغرق کشتیوں کا ذکر ہے صریح منطوق قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب دنیوی ایسے کافروں کے سر پر سے ٹل جاتا ہے جو خوف کے دنوں اور وقتوں میں حق اور توحید کی طرف رجوع کریں گو امن پا کر پھر بے ایمان ہو جائیں بھلا اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اپنے معلم شیخ بٹالوی کو کہو کہ قسم کھا کر بذریعہ تحریر یہ ظاہر کرے کہ ہمارا یہ بیان غلط ہے کیونکہ تم تو جاہل ہو تم ہر گز نہیں سمجھو گے اور وہ سمجھ لے گا اور یاد رکھو کہ وہ ہر گز فقسم نہیں کھائے گا کیونکہ ہمارے بیان میں سچائی کا نور دیکھے گا اور قرآن کے مطابق پائے گا پس اب بتلا کہ کیا دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا حق سے لڑتا رہ آخراے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا الدخان:۱۳ الدخان: ۱۶