انوارالاسلام — Page 84
روحانی خزائن جلد ۹ ۸۴ انوار الاسلام رات کو آتھم کی موت کے لئے دعائیں مانگنا یہ بھی ایک عذاب تھا۔ سبحان اللہ کس قدر مسلمان کہلا کر بے ہودہ باتیں آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ بچے مسلمان ہمیشہ غلبہ اسلام کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اور تہجد بھی پڑھتے ہیں اور نماز میں بھی ان کو رقت طاری ہوتی ہے اور آیت يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا لے کا مصداق ہوتے ہیں اگر یہی عذاب ہے تو ہماری دعا ہے کہ قیامت میں بھی یہ عذاب ہم سے الگ نہ ہو دعا کرنا ہمیشہ نبیوں کا طریق اور صلحاء کی سنت ہے اور عین عبادت ہے اس کا نام عذاب رکھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو دنیا کے کیڑے ہیں اور روحانی جہان سے بے خبر ہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مومن صادق پر اس وقت دکھ اور عذاب کی حالت وارد ہوتی ہے کہ جب نماز کی رقت اور پُر رقت دعا اس سے فوت ہو جاتی ہے۔ اے غافلو یہ تو دین داروں اور راستبازوں کا بہشت ہے نہ کہ عذاب سے ہر دم براه جانان سوز لیست عاشقان را ز جهان چه دید آن کس که ندید این جهان را (۱۰) دسوان اعتراض یہ کہ پادری عمادالدین تو ایک جاہل آدمی ہے اور عربی سے بے بہرہ وہ بے چارہ عربی کتابوں کا جواب کیونکر لکھتا۔ الجواب: ایسا جاہل ایک مدت دراز سے مولوی کہلاتا تھا اور ہزاروں نادان اس کو مولوی سمجھتے تھے تو کیا اس کی ان تالیفات سے ذلت نہیں ہوئی اور کیا وہ باعث عاجز رہ جانے کے اس ہزار لعنت کا مستحق نہ ہوا جو نور الحق کے چار صفحہ میں لکھی گئی ماسوا اس کے اے حضرت اس سے تو ان تمام پادریوں کی ناک کٹ گئی جو مولوی کہلاتے تھے اور مولویت کے دھوکہ سے جاہلوں پر بداثر ڈالتے تھے۔ نہ صرف عمادالدین کا ناک۔ کیا ایسی ثابت شدہ ذلت اور لعنت کی نظیر ہماری جماعت کو بھی پیش آئی آپ عیسائیوں کے حامی تو بنے اب حلفاً پورا پورا جواب دیں۔ (۱۱) گیارواں اعتراض ۔ یہ ہے کہ ایک ہند وزادہ سعد اللہ نام لدھیانہ سے اپنے اشتہار ۱۶ دسمبر ۱۸۹۴ء میں لکھتا ہے کہ صرف دل میں حق کی عظمت کو ماننا اور اپنے عقائد باطلہ الفرقان: ۶۵